فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 611

فقہ المسیح — Page 291

فقه المسيح 291 طلاق کے تعلقات مخالطت موقوف ہیں۔اگر اس میں کسی نوع سے کوئی ایسی روک پیدا ہو جائے کہ اس کے سبب سے مرد اس تعلق کے حقوق کی بجا آوری پر قادر نہ ہو سکے تو ایسی حالت میں اگر وہ اصول تقویٰ کے لحاظ سے کوئی کاروائی کرے تو عند العقل کچھ جائے اعتراض نہیں۔( نور القرآن۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 380 تا 382) طلاق میں جلدی نہ کرو حضرت مسیح موعود نے اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کروان کے لئے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پر ہیز کرو کیونکہ نہایت بد خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے۔جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندے برتن کی طرح جلد مت توڑو۔“ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 75) ایڈیٹر صاحب بدر تحریر کرتے ہیں کہ بار ہا دیکھا گیا اور تجربہ کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص خفیف عذرات پر عورت سے قطع تعلق کرنا چاہتا ہے تو یہ امر حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے ملال کا موجب ہوتا ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص سفر میں تھا اس نے اپنی بیوی کو لکھا کہ اگر وہ بدیدن خط جلدی اس کی طرف روانہ نہ ہو گی تو اُسے طلاق دے دی جاوے گی۔سنا گیا ہے کہ اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا تھا: "جو شخص اس قدر جلدی قطع تعلق کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو ہم کیسے امید کر سکتے ہیں کہ ہمارے ساتھ اس کا پکا تعلق ہے۔“ ایسا ہی ایک واقعہ اب چند دنوں سے پیش تھا کہ ایک صاحب نے اول بڑے چاہ سے ایک شریف لڑکی کے ساتھ نکاح ثانی کیا مگر بعد ازاں بہت سے خفیف عذر پر دس ماہ کے اندر ہی انہوں نے چاہا کہ اس سے قطع تعلق کر لیا جاوے۔اس پر حضرت اقدس علیہ السلام کو بہت سخت