فقہ المسیح — Page 290
فقه المسيح 290 طلاق مذکور ہے یہ ہے کہ <mark>خود</mark> <mark>سودہ</mark> نے ہی اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے دل میں یہ خوف کیا کہ اب میری حالت قابل رغبت نہیں رہی ایسا نہ ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باعث طبعی کراہت کے جو منشاء بشریت کو لازم ہے مجھ کو طلاق دے دیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی امر کراہت کا بھی اس نے اپنے دل میں سمجھ لیا ہو اور اس سے طلاق کا اندیشہ دل میں جم گیا ہو کیونکہ عورتوں کے مزاج میں ایسے معاملات میں وہم اور وسوسہ بہت ہوا کرتا ہے اس لئے اس نے <mark>خود</mark> ب<mark>خود</mark> ہی عرض کر دیا کہ میں اس کے سوا اور کچھ نہیں چاہتی کہ آپ کی ازواج میں میرا حشر ہو۔چنانچہ نیل الاوطار کے ص 140 میں یہ حدیث ہے: إِنَّ السَّوْدَةَ بِنْت زَمعة حِيْنَ أَسَنَّتُ وَ خَافَتْ اَنْ يُفَارِقَهَا رَسُولُ اللهِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ وَهَبْتُ يَوْمِي لِعَائِشَةَ فَقَبِلَ ذلِكَ مِنْهَا۔۔۔و رواه ايضًا سعد و سعید ابن منصور والترمذی و عبد الرزاق قال الحافظ فى الفتح فتواردت هذه الروايات على انها خشيت الطلاق۔یعنی <mark>سودہ</mark> بنت زمعہ کو جب اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے اس بات کا خوف ہوا کہ اب شائد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہو جاؤں گی تو اس نے کہا یا رسول اللہ میں نے اپنی نوبت عائشہ کو بخش دی۔آپ نے یہ اس کی درخواست قبول فرمالی۔ابن سعد اور سعید بن منصور اور ترمذی اور عبد الرزاق نے بھی یہی روایت کی ہے اور فتح الباری میں لکھا ہے کہ اسی پر روایتوں کا توارد ہے کہ <mark>سودہ</mark> کو آپ ہی طلاق کا اندیشہ ہوا تھا۔اب اس حدیث سے ظاہر ہے کہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ارادہ ظاہر نہیں ہوا بلکہ <mark>سودہ</mark> نے اپنی پیرانہ سالی کی حالت پر نظر کر کے <mark>خود</mark> ہی اپنے دل میں یہ خیال قائم کر لیا تھا اور اگر ان روایات کے تو ارد اور تظاهر کو نظر انداز کر کے فرض بھی کر لیں کہ آنحضرت نے طبعی کراہت کے باعث <mark>سودہ</mark> کو پیرانہ سالی کی حالت میں پا کر طلاق کا ارادہ کیا تھا تو اس میں بھی کوئی برائی نہیں اور نہ یہ امر کسی اخلاقی حالت کے خلاف ہے۔کیونکہ جس امر پر عورت مرد