فقہ المسیح — Page 289
فقه المسيح 289 طلاق جس جوڑ سے وہ فوائد مترتب نہیں ہو سکتے کہ جو اس جوڑ کی علت غائی ہیں بلکہ ان کی ضد پیدا ہوتی ہے تو وہ جوڑ در حقیقت جوڑ نہیں ہے۔(آریہ دھرم۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 65، 66) وجوہ طلاق ظاہر کرنا ضروری نہیں ایک صاحب نے اپنی عورت کو طلاق دی عورت کے رشتہ داروں نے حضرت کی خدمت میں شکایت کی کہ بے وجہ اور بے سبب طلاق دی گئی ہے مرد کے بیانوں سے یہ بات پائی گئی کہ اگر اسے کوئی ہی سزا دی جاوے مگر وہ اس عورت کو بسانے پر ہرگز آمادہ نہیں ہے عورت کے رشتہ داروں نے جو شکایت کی تھی ان کا منشاء تھا کہ پھر آبادی ہو اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔عورت مرد کا معاملہ آپس میں جو ہوتا ہے اس پر دوسرے کو کامل اطلاع نہیں ہوتی بعض وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی مخش عیب عورتوں میں نہیں ہوتا مگر تا ہم مزاجوں کی ناموافقت ہوتی ہے جو کہ باہمی معاشرت کی مخل ہوتی ہے ایسی صورت میں مرد طلاق دے سکتا ہے۔بعض وقت عورت گوولی ہو اور بڑی عابد اور پرہیز گار اور پاکدامن ہو۔۔۔اور اس کو طلاق دینے میں خاوند کو بھی رحم آتا ہو بلکہ وہ روتا بھی ہو مگر پھر بھی چونکہ اس کی طرف سے کراہت ہوتی ہے اس لیے وہ طلاق دے سکتا ہے مزاجوں کا آپس میں موافق نہ ہونا یہ بھی ایک شرعی امر ہے اس لیے ہم اب اس میں دخل نہیں دے سکتے جو ہوا سو ہوا۔مہر کا جو جھگڑا ہو وہ آپس میں فیصلہ کر لیا جاوے۔کیا بوڑھی عورت کو طلاق دی جا سکتی ہے؟ البدر یکم مئی 1903 صفحہ 117) اور یہ اعتراض کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سودہ کو پیرانہ سالی کے سبب سے طلاق دینے کے لئے مستعد ہو گئے تھے۔سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہے اور جن لوگوں نے ایسی روائتیں کی ہیں وہ اس بات کا ثبوت نہیں دے سکے کہ کس شخص کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ارادہ ظاہر کیا پس اصل حقیقت جیسا کہ کتب معتبرہ احادیث میں