فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 611

فقہ المسیح — Page 246

فقه المسيح 246 نکاح عملی نمونہ نہ دے سکے۔اس لئے یورپ کی عورتیں نہایت قابل شرم آزادی سے فائدہ اُٹھا کر اعتدال کے دائرہ سے ادھر اُدھر نکل گئیں اور آخر نا گفتنی فسق و فجور تک نوبت پہنچی۔اے نادان ! فطرت انسانی اور اس کے بچے پاک جذبات سے اپنی بیویوں سے پیار کرنا اور حسن معاشرت کے ہر قسم جائز اسباب کو برتنا انسان کا طبعی اور اضطراری خاصہ ہے۔اسلام کے بانی علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اُسے برتا اور اپنی جماعت کو نمونہ دیا۔مسیح نے اپنے نقص تعلیم کی وجہ سے اپنے ملفوظات اور اعمال میں یہ کمی رکھ دی۔مگر چونکہ طبعی تقاضا تھا اس لئے یورپ اور عیسویت نے خود اس کے لئے ضوابط نکالے۔اب تم خود انصاف سے دیکھ لو کہ گندی سیاہ بدکاری اور ملک کا ملک رنڈیوں کا ناپاک چکلہ بن جانا ، ہائیڈ پارکوں میں ہزاروں ہزار کا روز روشن میں کتوں اور کتیوں کی طرح اوپر تلے ہونا اور آخر اس نا جائز آزادی سے تنگ آکر آہ وفغاں کرنا اور برسوں دیوشیوں اور سیاہ روئیوں کے مصائب جھیل کر اخیر میں مسودہ طلاق پاس کرانا، یہ کس بات کا نتیجہ ہے؟ کیا اس مقدس مطهر، مرگی، نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشرت کے اس نمونہ کا جس پر خباثت باطنی کی تحریک سے آپ معترض ہیں، یہ نتیجہ ہے اور ممالک اسلامیہ میں یہ تعفن اور زہریلی ہوا پھیلی ہوئی ہے یا ایک سخت ناقص ، نالائق کتاب، پولوسی انجیل کی مخالف فطرت اور ادھوری تعلیم کا یہ اثر ہے؟ اب دوزانو ہو کر بیٹھو اور یوم الجزاء کی تصویر کھینچ کر غور کرو۔نور القرآن روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 392، 393) کم عمری کی شادی جائز ہے پادری فتح مسیح کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔آپ نے جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کر کے نو برس کی رسم شادی کا ذکر لکھا ہے۔اول تو نو برس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ثابت نہیں اور نہ اس میں کوئی وحی ہوئی اور نہ اخبار متواترہ سے ثابت ہوا کہ ضرور نو برس ہی