فقہ المسیح — Page 237
فقه المسيح 237 قربانی کے مسائل ایسی کیا ضرورت پڑ گئی ہے کہ تم غیروں کے ساتھ شامل ہوتے ہو۔اگر تم پر قربانی فرض ہے تو بکر اذبح کر سکتے ہو اور اگر اتنی بھی توفیق نہیں تو تم پر قربانی فرض ہی نہیں۔وہ غیر جو تم کو اپنے سے نکالتے ہیں اور کا فرقرار دیتے ہیں وہ تو پسند نہیں کرتے کہ تمہارے ساتھ شامل ہوں تو تمہیں کیا ضرورت ہے کہ اُن کے ساتھ شامل ہو۔خدا پر توکل کرو۔(بدر 14 فروری 1907 صفحہ 8) بکرے کی عمر کتنی ہو؟ سوال پیش ہوا ایک سال کا بکرا بھی قربانی کے لئے جائز ہے؟ فرمایا : مولوی صاحب سے پوچھ لو۔اہلحدیث و حنفاء کا اس میں اختلاف ہے۔نوٹ ایڈیٹر صاحب بدر : مولوی صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ دو سال سے کم کا بکرا قربانی کے لئے اہلحدیث کے نزدیک جائز نہیں۔( بدر مورخہ 23 جنوری 1908 صفحہ 2 کیا نا قص جانور بھی قربانی کے لئے ذبح کیا جا سکتا ہے؟ ایک شخص نے حضرت سے دریافت کیا کہ اگر جانو ر مطابق علامات مذکورہ درحدیث نہ ملے تو کیا ناقص کو ذبح کر سکتے ہیں؟ فرمایا: مجبوری کے وقت تو جائز ہے مگر آج کل ایسی مجبوری کیا ہے۔انسان تلاش کر سکتا ہے اور دن کافی ہوتے ہیں خواہ مخواہ حجت کرنا یا تساہل کرنا جائز نہیں۔عید الاضحی کا روزہ ( بدر 23 جنوری 1908 صفحہ 2) عیدالاضحیہ کے دن قربانی کر کے اُس کا گوشت کھانے تک جو روز ہ رکھا جاتا ہے اس بارہ میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے فرمایا: مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھے لکھا ہے کہ جو روزہ اس عید کے موقع پر رکھا جاتا ہے وہ سنت نہیں، اس کا اعلان کر دیا جائے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق