فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 611

فقہ المسیح — Page 227

فقه المسيح 227 حج تمہاری قربانیوں کا گوشت نہیں پہنچتا اور نہ خون پہنچتا ہے مگر تمہاری تقویٰ اس کو پہنچتی ہے یعنی اس سے اتنا ڈرو کہ گویا اس کی راہ میں مر ہی جاؤ اور جیسے تم اپنے ہاتھ سے قربانیاں ذبح کرتے ہو۔اسی طرح تم بھی خدا کی راہ میں ذبح ہو جاؤ۔جب کوئی تقویٰ اس درجہ سے کم ہے تو ابھی وہ ناقص ہے۔منه ) اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو نہ خانہ کعبہ بناتا اور نہ اس میں حجر اسود رکھتا لیکن چونکہ اس کی عادت ہے کہ روحانی امور کے مقابل پر جسمانی امور بھی نمونہ کے طور پر پیدا کر دیتا ہے تاوہ روحانی امور پر دلالت کریں اسی عادت کے موافق خانہ کعبہ کی بنیاد ڈالی گئی۔اصل بات یہ ہے کہ انسان عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور عبادت دو قسم کی ہے۔(1) ایک تذلیل اور انکسار (2) دوسری محبت اور ایثار۔تذلل اور انکسار کے لئے اُس نماز کا حکم ہوا جو جسمانی رنگ میں انسان کے ہر ایک عضو کوخشوع اور خضوع کی حالت میں ڈالتی ہے یہاں تک کہ دلی سجدہ کے مقابل پر اس نماز میں جسم کا بھی سجدہ رکھا گیا تا جسم اور روح دونوں اس عبادت میں شامل ہوں اور واضح ہو کہ جسم کا سجدہ بریکار اور لغو نہیں اول تو یہ امر مسلّم ہے کہ خدا جیسا کہ روح کا پیدا کرنے والا ہے ایسا ہی وہ جسم کا بھی پیدا کرنے والا ہے اور دونوں پر اُس کا حق خالقیت ہے ماسوا اس کے جسم اور روح ایک دوسرے کی تاخیر قبول کرتے ہیں بعض وقت جسم کا سجدہ روح کے سجدہ کا محرک ہو جاتا ہے اور بعض وقت روح کا سجدہ جسم میں سجدہ کی حالت پیدا کر دیتا ہے کیونکہ جسم اور روح دونوں باہم مرا یا متقابلہ کی طرح ہیں۔مثلاً ایک شخص جب محض تکلف سے اپنے جسم میں ہنے کی صورت بناتا ہے تو بسا اوقات وہ کچی بنسی بھی آجاتی ہے کہ جو روح کے انبساط سے متعلق ہے ایسا ہی جب ایک شخص تکلف سے اپنے جسم میں یعنی آنکھوں میں ایک رونے کی صورت بناتا ہے تو بسا اوقات حقیقت میں رونا ہی آجاتا ہے جو روح کی درد اور رقت سے متعلق ہے۔پس جبکہ یہ ثابت ہو چکا کہ عبادت کی اس قسم میں جو تذلل اور انکسار ہے جسمانی افعال کا روح پر اثر پڑتا ہے اور روحانی افعال کا جسم پر اثر پڑتا ہے۔پس ایسا ہی عبادت کی دوسری قسم میں بھی جو محبت اور ایثار ہے انہیں تاثیرات کا جسم اور روح میں عوض معاوضہ ہے۔محبت کے عالم میں انسانی روح ہر وقت اپنے محبوب کے گرد گھومتی ہے اور اس کے