فقہ المسیح — Page 218
فقه المسيح 218 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وہی تھی جو پہلے بیان ہوئی۔تراویح در اصل نماز تہجد ہی ہے روزہ اور رمضان ( بدر مؤرخہ 6 فروری 1908 ءصفحہ 7) ایک صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں خط لکھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ سفر میں نماز کس طرح پڑھنی چاہیے اور تراویح کے متعلق کیا حکم ہے؟ فرمایا: سفر میں دوگانہ سنت ہے۔تروایح بھی سنت ہے پڑھا کریں اور کبھی گھر میں تنہائی میں پڑھ لیں کیونکہ تراویح در اصل تہجد ہے کوئی نئی نماز نہیں۔وتر جس طرح پڑھتے ہو بیشک پڑھو۔“ نماز تراویح میں غیر حافظ کا قرآن دیکھ کر لقمہ دینا بدر 26 دسمبر 1907 ء صفحہ 6) رمضان شریف میں تراویح کے لئے کسی غیر حفظ کا قرآن دیکھ کر حافظ کو بتلانے کے متعلق دریافت کیا گیا تو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے فرمایا: میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ اس کے متعلق نہیں دیکھا۔اس پر مولوی محمد اسماعیل صاحب مولوی فاضل نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے جائزہ قرار دیا ہے۔فرمایا: جائز ہے تو اس سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے اور اس کے لئے یہ انتظام بھی ہوسکتا ہے کہ ایک ہی شخص تمام تراویح میں بیٹھ کر نہ سنتار ہے بلکہ چار آدمی دو دورکعت کے لئے سنیں اس طرح ان کی بھی چھ چھ رکعتیں ہو جائیں گی۔عرض کیا گیا فقہ اس صورت کو جائز ٹھہراتی ہے؟ فرمایا: اصل غرض تو یہ ہے کہ لوگوں کو قرآن کریم سننے کی عادت ڈالی جائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فتویٰ تو ضرورت اور مجبوری کی وجہ سے ہے جیسے کوئی کھڑا ہو کر نماز نہ پڑھ سکے