فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 611

فقہ المسیح — Page 167

فقه المسيح 167 نماز جمعہ اور عید اگر جمعہ کا خطبہ ثانیہ نہ آتا ہو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کے بعد میں قادیان جاتا رہا۔بہت دفعہ ایسا ہوتا رہا کہ جمعہ کی نماز میں پڑھاتا اور حضرت صاحب اور حافظ حامد علی صرف مقتدی ہوتے۔میں نے کہا مجھے خطبہ پڑھنا نہیں آتا۔حضور نے فرمایا: کوئی رکوع پڑھ کر اور بیٹھ کر کچھ درود شریف پڑھ دو۔انہی دنوں الہی بخش اکا ؤنٹنٹ ، عبدالحق اکا ؤنٹنٹ اور حافظ محمد یوسف سب اوور سیئر تینوں مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کے مرید تھے۔یہ بہت آیا کرتے تھے۔اکثر ایسا موقعہ ہوا ہے کہ میں قادیان گیا ہوں تو یہ بھی (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 29) وہاں ہوتے۔قضاء عمری ایک صاحب نے سوال کیا کہ یہ قضاء عمری کیا شے ہے جو کہ لوگ ( عید الاضحی ) کے پیشتر جمعہ کو ادا کرتے ہیں۔فرمایا: میرے نزدیک یہ فضول باتیں ہیں۔ان کی نسبت وہی جواب ٹھیک ہے جو کہ حضرت علی نے ایک شخص کو دیا تھا جبکہ ایک شخص ایک ایسے وقت نماز ادا کر رہا تھا جس وقت میں نماز جائز نہیں۔اس کی شکایت حضرت علی کے پاس ہوئی تو آپ نے اسے جواب دیا کہ میں اس آیت کا مصداق نہیں بننا چاہتا۔أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى (العلق : 10-11) یعنی تو نے دیکھا اس کو جو ایک نماز پڑھتے بندے کو منع کرتا ہے۔نما ز جو رہ جاوے اس کا تدارک نہیں ہوسکتا ہاں روزہ کا ہوسکتا ہے۔اور جو شخص عمد أ سال بھر اس لئے نماز کو ترک کرتا ہے کہ قضا عمری والے دن ادا کرلوں گا وہ تو گنہگار ہے اور جو شخص نادم ہو کر تو بہ کرتا ہے اور اس نیت سے پڑھتا ہے کہ آئندہ