فقہ المسیح — Page 166
فقه المسيح 166 نماز جمعہ اور عید یہ نہیں کہتا کہ کاش جمعہ کی تعطیل ہوتی لیکن اس کرزنی دور میں جبکہ لارڈ کرزن اس ملک کے وائسرائے ہیں مسلمانوں کو اس تمنا کے پورے ہونے میں بہت کچھ امید بڑھ گئی ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ جبکہ لارڈ موصوف نے دلی فیاضی اور ہمدردی سے ان کی مساجد واگذار کرادی ہیں تو پھر وہ امر جو مسجدوں کی علت غائی ہے یعنی نماز جمعہ، یہ امر بھی انہی ہاتھوں سے انجام پذیر ہوگا۔مسجد تو مثل دستر خوان یا میز کے ہے جس پر روٹی رکھی جاتی ہے مگر نماز جمعہ اصل روٹی ہے۔تمام مساجد کی بڑی بھاری غرض نماز جمعہ ہے پس کیا ہمارے عالی ہمت وائسرائے لارڈ کرزن یہ روا رکھیں گے کہ وہ ہمیں دستر خوان تو دیں مگر روٹی نہ دیں۔ایسی دعوت تو ناقص ہے اور امید نہیں کہ ایسا فیاض دل جوانمرد ایسی کمی کو اپنے پر گوارا کرے اور اگر ایسا ہمدرد وائسرائے جس کے بعد کم امید ہے کہ اس کی نظیر ملے اس فیاضی کی طرف توجہ نہ فرمادے تو پھر اس کے بعد عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ مسلمانوں کے لئے کبھی وہ دن آوے کہ دوسرے وائسرائے سے یہ مراد پاسکیں۔یہ ایک ایسی مراد ہے کہ اس کا انجام پذیر ہونا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ برطانیہ کی محبت کی طرف ایک زبر دست کشش سے کھینچ لے گا اور ان احسانوں کی فہرست میں جو اس گورنمنٹ نے مسلمانوں پر کئے ہیں اگر یہ احسان بھی کیا گیا کہ عام طور پر جمعہ کی تعطیل دی جائے تو یہ ایسا احسان ہوگا کہ جو آب زر سے لکھنے کے لائق ہوگا۔۔۔۔۔اگر گورنمنٹ اس مبارک دن کی یادگار کے لئے مسلمانوں کے لئے جمعہ کی تعطیل کھول دے یا اگر نہ ہو سکے تو نصف دن کی ہی تعطیل دے دے تو میں سمجھ نہیں سکتا کہ عام دلوں کو خوش کرنے کے لئے اس سے زیادہ کوئی کارروائی ہے مگر چونکہ گورنمنٹ کی فیاضی کا تنگ دائرہ نہیں ہے اور اگر توجہ پیدا ہو تو اس کی کچھ پروا نہیں ہے اس لئے صرف نصف دن کی تعطیل ایک ادنی بات ہے۔یقین ہے کہ گورنمنٹ عالیہ اس مبارک یادگار میں پورے دن کی تعطیل عنایت فرمائے گی اور یہی مسلمانوں کو توقع ہے۔الحکم 24 جنوری 1903 صفحہ 5-6)