فقہ المسیح — Page 156
فقه المسيح 156 حضرت مسیح موعود کا طریق نماز طرف منہ پھیر کر کہتے ہیں اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ۔۔۔۔اور پھر بائیں طرف بھی اسی طرح منہ پھیر کر کہتے ہیں اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللهِ۔پس اللہ اکبر سے نماز شروع ہوتی ہے اور اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللهِ پرختم ہو جاتی ہے یہ وہ نماز ہے جو کہ حضرت مسیح موعود اور ان کے اہل علم اور مخلص مہاجر اور رات دن ساتھ رہنے والے اصحاب پڑھتے ہیں جیسا میں نے بیان کیا ہے کہ ہاتھ باندھنے میں اختلاف ہے اور حضرت مسیح موعود اور ان کے مذکورہ بالا خدام فلاں طرز پر باندھتے ہیں۔اسی طرح یہ بھی جاننا چاہئے کہ رفع یدین میں بھی اختلاف ہے۔( یعنی رکوع کو جاتے ہوئے اور اٹھنے کے بعد نیچے جاتے ہوئے اور دوسری رکعت کے بعد بیٹھ کر پھر اُٹھتے ہوئے تکبیر کہتے ہوئے کانوں تک ہاتھوں کو اس طرح اُٹھانا جیسا کہ پہلی تکبیر کے وقت اُٹھاتے ہیں ) اور اختلاف یہ ہے کہ بعض ان مقاموں پر ہاتھ اُٹھاتے ہیں اور بعض نہیں اُٹھاتے اور حضرت مسیح موعود اور ان کے مذکورہ بالا خدام ان مقاموں پر رفع یدین نہیں کرتے۔ہاں اگر کوئی ان کے سامنے کرے تو اس پر اعتراض بھی نہیں کرتے۔۔امام کے ساتھ نماز پڑھنے کی حالت میں ایک اور مسئلہ میں بھی بہت کچھ نزاع ہے اور وہ ہے بلند آواز سے آمین کہنے کا لیکن حضرت مسیح موعود کا عمل درآمد ( جو کہ ترجیح اور ثبوت کے لئے حجت قاطعہ ہے اور حجت قاطعہ بھی ایسی کہ جس پر ہر ایک عقل مند مومن حلف کھا سکتا ہے کہ خدائے علیم کو یہ پسند ہے ) یہی ہے کہ آپ بلند آواز سے آمین نہیں کہتے اور نہ کسی کہنے والے پر کوئی اعتراض کرتا ہے (رسالہ تعلیم الاسلام قادیان ماہ جولائی 1906ء جلد 1 نمبر 5 صفحہ 171 تا 182)