فقہ المسیح — Page 145
فقه المسيح 145 قصر نماز ہمیشہ دورہ میں رہتا ہو اس کو نمازوں میں قصر کرنی جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا : جو شخص رات دن دورہ پر رہتا ہے وہ اسی بات کا ملازم ہے۔وہ حالت دورہ میں مسافر نہیں کہلا سکتا۔اس کو پوری نماز پڑھنی چاہئے۔بدر 7 فروری 1907 ء صفحہ 4) ایک صاحب محمد سعید الدین کا ایک سوال حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ میں اور میرے بھائی ہمیشہ تجارت عطریات وغیرہ میں سفر کرتے رہتے ہیں کیا ہم نماز قصر کیا کریں۔فرمایا :۔سفر تو وہ ہے جو ضر ور تا گا ہے گا ہے ایک شخص کو پیش آوے نہ یہ کہ اس کا پیشہ ہی یہ ہو کہ آج یہاں کل وہاں اپنی تجارت کرتا پھرے۔یہ تقویٰ کے خلاف ہے کہ ایسا آدمی آپ کو مسافروں میں شامل کر کے ساری عمر نماز قصر کرنے میں ہی گذار دے۔سفر سے پہلے نمازوں کا جمع کرنا ( بدر 28 مارچ 1907 ءصفحہ 4) آج ظہر اور عصر کی نماز جمع کر کے حضرت اقدس گورداسپور کے لئے روانہ ہوئے۔آپ کے ہمراہ صاحبزادہ میاں بشیر الدین محمود بھی تھے۔سٹیشن کے قریب جو سرائے تھی۔اس میں حضور علیہ السلام نے نزول فرمایا۔مغرب اور عشاء کی نمازیں یہاں جمع کر کے پڑھی ( البدر 28 اگست 1903 ، صفحہ 250) مقیم پوری نماز ادا کرے ڈاکٹر محمد اسمعیل خان صاحب گورداسپور میں مقیم تھے اور احمدی جماعت نزیل قادیان بہ باعث سفر میں ہونے کے نماز جمع کر کے ادا کرتی تھی۔ڈاکٹر صاحب نے مسئلہ پوچھا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ: مقیم پوری نماز ادا کریں وہ اس طرح ہوتی رہی کہ جماعت کے ساتھ ڈاکٹر صاحب نماز ادا کرتے۔جماعت دو