فقہ المسیح — Page 141
فقه المسيح 141 قصر نماز فتوی دے کہ یہ سفر ہے تو قصر کرے۔اِسْتَفْتِ قَلْبَكَ (اپنے دل سے فتویٰ لو۔) پر عمل چاہئے۔ہزار فتولی ہو پھر بھی مومن کا نیک نیتی سے قلبی اطمینان عمدہ شے ہے۔عرض کیا گیا کہ انسانوں کے حالات مختلف ہیں۔بعض نو دس کوس کو بھی سفر نہیں سمجھتے۔بعض کے لئے تین چار کوس بھی سفر ہے۔فرمایا:۔شریعت نے ان باتوں کا اعتبار نہیں کیا۔صحابہ کرام نے تین کوس کو بھی سفر سمجھا ہے۔عرض کیا گیا۔حضور بٹالہ جاتے ہیں تو قصر فر ماتے ہیں:۔فرمایا :۔ہاں کیونکہ وہ سفر ہے۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی طبیب یا حاکم بطور دورہ کئی گاؤں میں پھرتا رہے تو وہ اپنے تمام سفر کو جمع کر کے اسے سفر نہیں کہہ سکتا۔( بدر 23 جنوری 1908ء صفحہ 2) حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی تحریر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے عرض کیا که نماز قصر کتنی دور کے لئے کرنی چاہئے۔فرمایا ایک تو سفر ہوتا ہے اور ایک سیر ہوتی ہے سفر کی نیت سے اگر تین کوس جانا ہو جیسے لودھیا نہ سے پھلور تو نماز قصر کرنی چاہئے۔یہی حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کا معمول تھا اور بعض ضعیف پیر فرتوت اور حاملہ عورتیں ہیں۔ان کے لئے تو کوس بھر ہی سفر ہو جاتا ہے۔ہاں سیر کے لئے تو چاہے آٹھ کوس چلا جائے تو نماز قصر نہیں ہے۔( تذکرۃ المہدی حصہ اول صفحہ 116 ، 117 ) مرکز میں نمازوں کا قصر جائز ہے نماز کے قصر کرنے کے متعلق سوال کیا گیا کہ جو شخص یہاں آتے ہیں وہ قصر کریں یا نہ ؟ فرمایا:۔جو شخص تین دن کے واسطے یہاں آوے اس کے واسطے قصر جائز ہے میری دانست میں جس سفر میں عزم سفر ہو پھر خواہ وہ تین چار کوس ہی کا سفر کیوں نہ ہو اس میں قصر جائز ہے۔یہ ہماری سیر سفر نہیں ہے۔ہاں اگر امام مقیم ہو تو اس کے پیچھے پوری ہی نماز پڑھنی پڑے گی۔