فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 611

فقہ المسیح — Page 133

فقه المسيح 133 نماز استخاره یا الہی ! میں تیرے علم کے ذریعہ سے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت سے قدرت مانگتا ہوں کیونکہ تجھ ہی کو سب قدرت ہے مجھے کوئی قدرت نہیں اور تجھے سب علم ہے مجھے کوئی علم نہیں اور تو ہی چھپی باتوں کو جانے والا ہے۔الہی اگر تو جانتا ہے کہ یہ امر میرے حق میں بہتر ہے بلحاظ دین اور دنیا کے ، تو تو اسے میرے لئے مقدر کر دے اور اسے آسان کر دے اور اس میں برکت دے اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ امر میرے لئے دین اور دنیا میں شہر ہے تو مجھ کو اس سے باز رکھ۔اگر وہ امر اس کے لئے بہتر ہوگا تو خدا تعالیٰ اس کے لئے اس کے دل کو کھول دے گا ورنہ طبیعت میں قبض ہو جائے گی۔دل بھی عجیب شے ہے جیسے ہاتھوں پر انسان کا تصرف ہوتا ہے کہ جب چاہے حرکت دے۔دل اس طرح اختیار میں نہیں ہوتا۔اس پر اللہ تعالیٰ کا تصرف ہے۔ایک وقت میں ایک بات کی خواہش کرتا ہے پھر تھوڑی دیر کے بعد اسے نہیں چاہتا۔یہ ہوائیں اندر سے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے چلتی ہیں۔ہرا ہم کام سے پہلے استخارہ کرنا حضرت مولوی شیر علی صاحب روایت کرتے ہیں : البدر 2 جنوری 1903 صفحہ 78 ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ طریق عمل تھا۔کہ ہر ایک اہم کام کے شروع کرنے سے پہلے ضرور دعا کیا کرتے تھے اور دعا بطریق مسنون دعائے استخارہ ہوتی تھی۔استخارہ کے معنی ہیں خدا تعالیٰ سے طلب خیر کرنا۔استخارہ کے نتیجے میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ کوئی خواب آجائے جیسا کہ آج کل کے بعض صوفی استخارہ کرتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ سے خیر طلب کرتے ہیں یہ طریق مسنون نہیں۔اصل مقصد تو یہ ہونا چاہئے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے خیر حاصل ہوا اور دعائے استخارہ سے اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ جو کام ہمارے لئے بہتری اور بھلائی کا ہو وہ آسان ہو جاتا ہے۔بغیر دقتوں کے حاصل ہو جاتا ہے اور قلب