فقہ المسیح — Page 122
فقه المسيح 122 متفرق مسائل نماز ضروری ہیں۔موجود ہیں۔ہمارے دل میں اس کے متعلق بہت سی باتیں ہیں جن کو الفاظ پورے طور پر ادا نہیں کر سکتے۔بعض سمجھ لیتے ہیں اور بعض رہ جاتے ہیں مگر ہمارا کام یہ ہے کہ ہم تھکتے نہیں۔کہتے جاتے ہیں۔جو سعید ہوتے ہیں اور جن کو فراست دی گئی ہے وہ سمجھ (الحكم 24 اکتوبر 1902ء صفحہ 12،11) لیتے ہیں۔عربی کی بجائے کسی اور زبان میں نماز پڑھنا درست نہیں سوال : ایک شخص نے رسالہ لکھا تھا کہ ساری نماز اپنی ہی زبان میں پڑھنی چاہیے۔جواب از حضرت اقدس: وہ اور طریق ہو گا ، جس سے ہم متفق نہیں۔قرآن شریف بابرکت کتاب ہے اور رب جلیل کا کلام ہے۔اس کو چھوڑ نا نہیں چاہیے۔ہم نے تو ان لوگوں کے لیے دعاؤں کے واسطے کہا ہے، جو امی ہیں اور پورے طور پر اپنے مقاصد عرض نہیں کر سکتے ان کو چاہیے۔کہ اپنی زبان میں دعا کر لیں۔ان لوگوں کی حالت تو یہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ فتح محمد ایک شخص تھا۔اس کی چی بہت بڑھی ہوگئی تھی۔اس نے کلمہ کے معنے پوچھے تو اس کو کیا معلوم تھا کہ کیا ہیں۔اس نے بتائے تو اس عورت نے پوچھا کہ محمد مر د تھا یا عورت تھی۔جب اس کو بتایا گیا کہ وہ مرد تھا ، تو وہ حیرت زدہ ہو کر کہنے لگی کہ پھر کیا میں اتنی عمر تک بیگانے مرد ہی کا نام لیتی رہی؟ یہ حالت مسلمانوں کی ہو گئی ہے۔(الحكم 24 اکتوبر 1902 ، صفحہ 12 )