فقہ المسیح — Page 120
فقه المسيح 120 متفرق مسائل <mark><mark>نما</mark>ز</mark> ہے۔<mark><mark>نما</mark>ز</mark> ایسی شے ہے کہ سیات کو دور کر دیتی ہے۔جیسے فرمایا إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ (هود : 115) <mark>نما</mark> ز کل بدیوں کو دور کر دیتی ہے۔حسنات سے مراد <mark><mark>نما</mark>ز</mark> ہے مگر آج کل یہ حالت ہو رہی ہے کہ عام طور پر <mark><mark>نما</mark>ز</mark>ی کو مکار سمجھا جاتا ہے کیونکہ عام لوگ بھی جانتے ہیں کہ یہ لوگ جو <mark><mark>نما</mark>ز</mark> پڑھتے ہیں۔یہ اسی قسم کی ہے جس پر خدا نے واویلا کیا ہے کیونکہ اس کا کوئی نیک اثر اور نیک نتیجہ مترتب نہیں ہوتا۔نرے الفاظ کی بحث میں پسند نہیں کرتا۔آخر مر کر خدا تعالیٰ کے حضور جانا ہے۔دیکھو ایک مریض جو طبیب کے پاس جاتا ہے اور اس کا نسخہ استعمال کرتا ہے۔اگر دس ہیں دن تک اس سے کوئی فائدہ نہ ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ تشخیص یا علاج میں کوئی غلطی ہے۔پھر یہ کیا اندھیر ہے کہ سالہا سال سے <mark><mark>نما</mark>ز</mark>یں پڑھتے ہیں اور اس کا کوئی اثر محسوس اور مشہور نہیں ہوتا۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ اگر دس دن بھی <mark><mark>نما</mark>ز</mark> کو سنوار کر پڑھیں تو تنویر قلب ہو جاتی ہے مگر یہاں تو پچاس پچاس برس تک <mark><mark>نما</mark>ز</mark> پڑھنے والے دیکھے گئے ہیں کہ بدستور رو بہ دنیا اور سفلی زندگی میں نگونسار ہیں اور انہیں نہیں معلوم کہ وہ <mark><mark>نما</mark>ز</mark>وں میں کیا پڑھتے ہیں اور استغفار کیا چیز ہے۔اس کے معنوں پر بھی انہیں اطلاع نہیں ہے۔طبیعتیں دوستم کی ہیں۔ایک وہ جو عادت پسند ہوتی ہیں جیسے اگر ہند و کا کسی مسلمان کے ساتھ کپڑا بھی چھو جاوے تو وہ اپنا کھانا پھینک دیتا ہے حالانکہ اس کھانے میں مسلمان کا کوئی اثر سرایت نہیں کر گیا۔زیادہ تر اس زمانہ میں لوگوں کا یہی حال ہو رہا ہے کہ عادت اور رسم کے پابند ہیں اور حقیقت سے واقف اور آشنا نہیں ہیں۔جو شخص دل میں یہ خیال کرے کہ یہ بدعت ہے کہ <mark><mark>نما</mark>ز</mark> کے پیچھے دعا نہیں مانگتے بلکہ <mark><mark>نما</mark>ز</mark>وں میں دعائیں کرتے ہیں۔یہ بدعت نہیں۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ادعیہ عربی میں سکھائی تھیں جو اُن لوگوں کی اپنی مادری زبان تھی اسی لیے ان کی ترقیات جلدی ہو ئیں۔لیکن جب دوسرے ممالک میں اسلام پھیلا تو وہ ترقی نہ