فقہ المسیح — Page 98
فقه المسيح 98 متفرق مسائل نماز بہتر ہے اول وقت وتر پڑھ لیں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جبکہ مولوی کرم دین والا مقدمہ تھا اور گورداسپور میں اس کی پیشی تھی تو وہاں پر میں نے ایک شیشم کے درخت کے نیچے حضرت صاحب کے حضور عرض کی کہ حضور عشاء کی نماز کے بعد اگر وتر نہ پڑھے جائیں اور پچھلے وقت بھی رہ جاویں تو پھر ان کو کس وقت پڑھا جاوے۔تب حضور نے فرمایا کہ ”بہتر یہی ہے کہ پہلے وقت ہی پڑھ لئے جاویں۔“ یعنی نماز عشاء کے بعد ہی پڑھ لینے چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وتر پڑھنے کا طریق (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 172) سوال: - حضرت مسیح موعود علیہ السلام و تر دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر تے تھے یا تین پڑھ کر ؟ اس کے جواب میں حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:۔66 عموما دو پڑھ کر۔مولوی سید سرور شاہ صاحب نے کہا جس قدر واقف لوگوں سے اور روا میتیں سنی ہیں ان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ دو پڑھ کر سلام پھیرتے تھے پھر ایک پڑھتے۔الفضل 12 / جون 1922 صفحہ 7) وتر اور دعائے قنوت حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی روایت کرتے ہیں کہ ایک روز میں نے حضرت اقدس سے پوچھا وتر کی کتنی رکعت ہیں اور کس طرح پڑھنا چاہئے فرمایا وتر تو ایک ہی رکعت ہے۔وتر ایک کو کہتے ہیں لیکن ایک رکعت جائز نہیں ہے۔اس لئے دو رکعت نفل اور اس کے ساتھ لگا دی گئی ہیں اور دوطریق سے پڑھنے چاہئیں۔ایک طریق کہ جس طرح حنفی پڑھتے ہیں اور دوسرا طریق یہ ہے کہ دو