فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 611

فقہ المسیح — Page 94

فقه المسيح 94 متفرق مسائل نماز نماز میں کسی وجہ سے نہ آسکیں۔مولوی حکیم فضل الدین صاحب مرحوم اور گا ہے عاجز راقم کو یا کسی اور صاحب کو امامت کے واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حکم فرماتے تھے۔حضور خود کبھی پیش امام نہ بنتے تھے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول ہمیشہ پیش امام رہے۔( ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 22 ، 23 ) سجدہ میں قرآنی دعائیں پڑھنا کیوں منع ہے؟ سوال :۔سجدہ میں قرآنی دعاؤں کا پڑھنا کیوں ناجائز ہے جبکہ سجدہ انتہائی تذلل کا مقام ہے؟ حضرت خلیفہ المسیح الثانی اس سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:۔میرا تو یہی عقیدہ رہا ہے کہ سجدہ میں قرآنی دعاؤں کا پڑھنا جائز ہے لیکن بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ایسا حوالہ ملا جس میں آپ نے سجدہ کی حالت میں قرآنی دعاؤں کا پڑھنا ناجائز قرار دیا ہے۔اسی طرح مسند احمد بن حنبل میں بھی اسی مضمون کی ایک حدیث مل گئی لیکن اگر میرے عقیدے کے خلاف یہ امور نہ ملتے تب بھی یہ دلیل میں معقول قرار نہ دیتا کہ سجدہ جب انتہائی تذلل کا مقام ہے تو قرآنی دعاؤں کا سجدہ کی حالت میں پڑھنا جائز ہونا چاہئے۔امام مالک کا عقیدہ تھا کہ سمندر کی ہر چیز حلال ہے ایک دفعہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا سمندر میں سور بھی ہوتا ہے کیا اس کا کھانا بھی جائز ہے۔آپ نے فرمایا سمندر کی ہر چیز کھانی جائز ہے مگر سور حرام ہے۔اس نے بار بار یہی سوال کیا مگر آپ نے فرمایا میں اس سوال کا یہی جواب دے سکتا ہوں کہ سمندر کی ہر چیز حلال ہے مگر سؤ رحرام ہے۔یہی جواب میں دیتا ہوں