فقہ المسیح — Page 93
فقه المسيح جهرا دعائیں پڑھنا 93 33 متفرق مسائل نماز حضرت مفتی محمد صادق صاحب تحریر کرتے ہیں کہ جب ابتدا میں میں قادیان گیا اور مسجد مبارک میں صرف تین چار نمازی ہوا کرتے تھے اور حافظ معین الدین صاحب مرحوم نماز پڑھایا کرتے تھے۔جب حضرت مولوی نورالدین صاحب ہجرت کر کے۔۔۔قادیان آگئے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں اپنی مساجد میں پیش امام بنایا اور وہی نمازیں پڑھاتے رہے۔لیکن اُس کے بعد جب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم بھی ہجرت کر کے قادیان آگئے تو حضرت مولوی نورالدین صاحب نے انہیں نماز کے واسطے آگے کر دیا اور پھر جب تک وہ زندہ رہے وہی پیش امام رہے۔لیکن گا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام طبیعت کی کمزوری کے سبب مسجد مبارک میں ہی جمعہ بھی پڑھ لیتے تھے اور چونکہ مسجد مبارک میں سب لوگ سما نہ سکتے تھے۔اس واسطے جمعہ مسجد اقصیٰ میں بھی بدستور ہوتا اور مسجد اقصیٰ میں حضرت مولوی نورالدین صاحب جمعہ پڑھاتے تھے اور مسجد مبارک میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جمعہ پڑھاتے تھے اور گا ہے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب باہر گئے ہوئے ہوتے اور حضرت مولوی محمد احسن صاحب قادیان میں موجود ہوتے تو مسجد مبارک میں وہ جمعہ پڑھاتے۔جب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم ہجرت کر کے قادیان چلے آئے تو وہی پیش امام نماز کے ہوتے رہے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اپنی قراءت میں ہمیشہ بسم اللہ سورۃ فاتحہ سے پہلے بالجبر پڑھتے تھے اور فجر اور مغرب اور عشاء کی آخری رکعت میں بعد رکوع عموما بلند آواز میں بعض دُعائیں مثلًا رَبَّنَا افْتَحُ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ اور رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا الحَ اور اَللَّهُمَّ انْصُرُ مَنْ نَصَرَ دِيْنَ مُحَمَّدٍ الحَ اور اللَّهُمَّ ايْدِ الْإِسْلَامَ وَالْمُسْلِمِيْنَ بِالْإِمَامِ الْحَكَمِ الْعَادِلِ وغیرہ پڑھا کرتے تھے اور حضرت مولوی صاحب کی عدم موجودگی میں جب کہ وہ سفر پر ہوں یا