فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 611

فقہ المسیح — Page 92

فقه المسيح 92 92 متفرق مسائل نماز درود شریف پڑھ چکے تھے اور قریب تھا کہ پیش امام صاحب سلام کہیں مگر ہنوز انہوں نے سلام نہ کہا تھا کہ درمیانی مکبر کو غلطی لگی اور اس نے سلام کہہ دیا جس پر آخری صفوں کے نمازیوں نے بھی سلام کہہ دیا اور بعض نے سنتیں بھی شروع کر دیں کہ امام صاحب نے سلام کہا اور درمیانی مکبر نے جو اپنی غلطی پر آگاہ ہو چکا تھا دوبارہ سلام کہا۔اس پر ان نمازیوں نے جو پہلے سے سلام کہہ چکے تھے اور نماز سے فارغ ہو چکے تھے مسئلہ دریافت کیا کہ آیا ہماری نماز ہوگئی یا ہم دوبارہ نما ز پڑھیں؟ صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب نے جو خود بھی پچھلی صفوں میں تھے اور امام سے پہلے سلام کہہ چکے تھے فرمایا کہ یہ مسئلہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے دریافت کیا جا چکا ہے اور حضرت نے فرمایا ہے کہ:۔آخری رکعت میں التحیات پڑھنے کے بعد اگر ایسا ہو جائے تو مقتدیوں کی نماز ہو جاتی ہے۔دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔بآواز بلند اپنی زبان میں دعا ( بدر 2 مئی 1907 ء صفحہ 2) ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور امام اگر اپنی زبان میں (مثلاً اُردو میں ) بآواز بلند دُعا مانگتا جائے اور پچھلے آمین کرتے جاویں تو کیا یہ جائز ہے جبکہ حضور کی تعلیم ہے کہ اپنی زبان میں دعائیں نماز میں کر لیا کرو۔فرمایا :۔دعا کو بآواز بلند پڑھنے کی ضرورت کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے تو فرمایا تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً (الاعراف : 56 ) اور دُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ (الاعراف : 206) عرض کیا کہ قنوت تو پڑھ لیتے ہیں۔فرمایا :۔ہاں ادعیہ ماثورہ جو قرآن و حدیث میں آچکی ہیں وہ بے شک پڑھ لی جاویں۔باقی دعا ئیں جو اپنے ذوق و حال کے مطابق ہیں وہ دل ہی میں پڑھنی چاہئیں۔بدر یکم اگست 1907 ، صفحہ 12)