فقہ المسیح — Page 91
فقه المسيح 91 متفرق مسائل نماز فرض ادا کر کے گھر میں آتے تو فوراً سنتیں پڑھنے کھڑے ہوتے اور نما ز سنت پڑھ کر پھر اور کوئی کام کرتے۔ان کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی یہی شہادت دی اور ان کے بعد حضرت میر ناصر نواب صاحب نے اور ان کے بعد صاحبزادہ میر محمد اسحاق صاحب نے اور پھر حضرت اقدس (علیہ السلام ) کے پرانے خادم حافظ حامد علی صاحب ( آج مرحوم) نے بھی اپنی عینی شہادت کا اظہار کیا۔(ایڈیٹر ) ( سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صفحه 67765) مسجد کے ستونوں کے درمیان نماز پیل پایوں کے بیچ میں کھڑے ہونے کا ذکر آیا کہ بعض احباب ایسا کرتے ہیں۔فرمایا اضطراری حالت میں تو سب جائز ہے۔ایسی باتوں کا چنداں خیال نہیں کرنا چاہئے۔اصل بات تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضامندی کے موافق خلوص دل کے ساتھ اسی کی عبادت کی جائے۔ان باتوں کی طرف کوئی خیال نہیں کرتا۔( بدر 13 فروری 1908 ، صفحہ 10) طلوع فجر کے بعد سورج نکلنے تک نوافل جائز نہیں ایک شخص کا سوال حضرت صاحب کی خدمت میں پیش ہوا کہ نماز فجر کی اذان کے بعد دوگانہ فرض سے پہلے اگر کوئی شخص نوافل ادا کرے تو جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا نماز فجر کی اذان کے بعد سورج نکلنے تک دو رکعت سنت اور دو رکعت فرض کے سوا اور بدر 7 فروری 1907 ، صفحہ 4) کوئی نماز نہیں ہے۔امام کے سلام پھیرنے سے قبل غلطی سے سلام پھیر لینا نماز مغرب میں آدمیوں کی کثرت کی وجہ سے پیش امام صاحب کی آواز آخری صفوں تک نہ پہنچ سکنے کے سبب درمیانی صفوں میں سے ایک شخص حسب معمول تکبیر کا بآواز بلند تکرار کرتا جاتا تھا۔آخری رکعت میں جب سب التحیات بیٹھے تھے اور دعائے التحیات اور