فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 611

فقہ المسیح — Page 69

فقه المسيح 69 ارکان نماز ہوا اور اگر میسر نہ آسکے تو مجبوری ہے نماز ہو جائے گی مگر افضلیت کے درجہ پر نہیں ہوگی۔(مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 471) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضور کی خدمت میں سورۃ الحمد خلف امام پڑھنے کے متعلق سوال کیا۔فرمایا کہ ” قراءت سورۃ الحمد خلف امام بہتر ہے۔“ میں نے عرض کی کہ اگر نہ پڑھا جائے تو نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ فرمایا کہ نماز تو ہو جاتی ہے مگر افضل تو یہی ہے کہ الحمد خلف امام پڑھا جاوے۔یہ بھی فرمایا کہ اگر بدوں سورۃ الحمد خلف امام نماز نہ ہوتی ہو تو حنفی مذہب میں بڑے بڑے صالح لوگ گزرے ہیں وہ کس طرح صالح ہو جاتے۔نماز دونوں طرح سے ہو جاتی ہے فرق صرف افضلیت کا ہے۔ایسا ہی آمین بالستر پر آمین بالجبر کو تر جیح دی جاتی تھی۔(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 153 ) مقتدی کے لئے سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے حضرت خلیفہ امسیح الثانی فرماتے ہیں:۔سورۃ فاتحہ ہر نماز میں اور ہر رکعت میں پڑھنی ضروری ہے۔سوائے اس کے کہ مقتدیوں کے نماز میں شامل ہونے سے پہلے امام رکوع میں جاچکا ہو۔اس صورت میں تکبیر کہہ کر بغیر کچھ پڑھے رکوع میں چلے جانا چاہئے۔امام کی قراءت ہی اس کی قراءت سمجھ لی جائے گی۔سورہ فاتحہ کی نماز میں پڑھنے کی تاکید مختلف احادیث میں آتی ہے۔صحیح مسلم میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ نے روایت کی ہے کہ قَالَ مَنْ صَلَّى صَلوةٌ لَمْ يَقْرَءُ فِيْهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ (مسلم کتاب الصلوة باب وجوب قراءة الفاتحة) یعنی جس نے نماز ادا کی مگر اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے اور بخاری، مسلم