فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 611

فقہ المسیح — Page 68

فقه المسيح حضرت صاحب کا عمل تھا۔فاتحہ خلف الامام 68 80 ارکان نماز (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 148،147) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی سختی کے ساتھ اس بات پر زور دیتے تھے کہ مقتدی کو امام کے پیچھے بھی سورۃ فاتحہ پڑھنی ضروری ہے۔مگر ساتھ ہی یہ بھی فرماتے تھے کہ با وجو د سورۃ فاتحہ کو ضروری سمجھنے کے میں یہ نہیں کہتا کہ جو شخص سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔کیونکہ بہت سے بزرگ اور اولیاء اللہ ایسے گذرے ہیں جو سورۃ فاتحہ کی تلاوت ضروری نہیں سمجھتے تھے اور میں ان کی نمازوں کو ضائع شدہ نہیں سمجھ سکتا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حنفیوں کا عقیدہ ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی کو خاموش کھڑے ہو کر اس کی تلاوت کوسننا چاہئے اور خود کچھ نہیں پڑھنا چاہئے۔اور اہلِ حدیث کا یہ عقیدہ ہے کہ مقتدی کے لئے امام کے پیچھے بھی سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے اور حضرت صاحب اس مسئلہ میں اہلِ حدیث کے مؤید تھے مگر باوجود اس عقیدہ کے آپ غالی اہلِ حدیث کی طرح یہ نہیں فرماتے تھے کہ جو شخص سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔) سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 335،334) حضرت منشی رستم علی صاحب کے ایک سوال کے جواب میں حضرت اقدس علیہ السلام نے خط میں انہیں تحریر فرمایا کہ نماز مقتدی بغیر سورۃ فاتحہ بھی ہو جاتی ہے مگر افضلیت پڑھنے میں ہے۔اگر کوئی امام جلد خواں ہو تو ایک آیت یا دو آیت جس قدر میسر آوے آہستہ پڑھ لیں جو مانع سماعت قراءت امام نہ