فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 611

فقہ المسیح — Page 59

فقه المسيح 59 وضو (10x10 - ناقل) سے زیادہ ہے تاہم اگر کوئی شخص جس نے اس میں گندگی پڑتے دیکھی ہو ، اگر اس کے استعمال سے کراہت کرے تو اس کے واسطے مجبوری نہیں کہ خواہ مخواہ اس سے یہ پانی استعمال کرایا جائے جیسا کہ گوہ کا کھانا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز رکھا ہے مگر خود کھانا پسند نہیں فرمایا۔گندے جو ہڑ کے پانی سے وضو درست نہیں ( بدر 26 ستمبر 1907 صفحہ 6) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دار الفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن کا ذکر ہے حضور اپنی عادت کے طور پر سیر کے لئے گھر سے باہر تشریف لائے۔بہت دوست باہر دروازہ پر حضور کا انتظار کر رہے تھے۔اس روز حضور موضع بھینی کی طرف تشریف لے چلے۔جب ایک چھپڑ پر جو قصبہ قادیان کے متصل بر لب راہ موضع بھینی کی جانب ہے اس کے کنارے پر ایک بڑا بڑھ کا درخت تھا۔حضور اس کے نیچے کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ اس چھپڑ کا پانی اچھا نہیں ہے اس سے وضو کر کے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔چنانچہ میں نے کئی دفعہ دوستوں کو وہاں سے وضو کر نے سے روکا تھا۔اور وہ دوست مجھے محول کرتے تھے۔اس روز وہ دوست بھی وہاں ہی تھے انہوں نے اپنے کانوں سے سُنا کہ حضور نے اس چھپڑ کے پانی سے وضو کر نا اور اس کو استعمال کرنا منع فرمایا۔(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 304) کنوئیں کو پاک کرنے کے مشہور مسئلہ کے بارہ میں رہنمائی سوال ہوا کہ یہ جو مسئلہ ہے کہ جب چوہا یا بلی یا مرغی یا بکری یا آدمی کنوئیں میں مر جاویں تو اتنے ڈلو ( ڈول۔ناقل ) پانی نکالنے چاہئیں۔اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے؟ پہلے تو ہمارا یہی عمل تھا کہ جب تک رنگ بو مزا نہ بدلے پانی کو پاک سمجھتے۔