فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 94 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 94

۹۴ سے دوسرے فریق کے نقصان اُٹھانے کا مستوجب قرار پائے۔اس لئے ضرورت ہے کہ کوئی تیسرا شخص عورت اور مرد دونوں کے بیان لے اور اس امر کا جائزہ لے کہ خیار بلوغ کا حق صحیح طور پر اور صحیح وقت پر استعمال کیا گیا ہے یا نہیں۔نیز یہ کہ آیا فریق متعلقہ سے کوئی ایسا فعل تو سرزد نہیں ہوا جس سے یہ ثابت ہو کہ بلوغ کے بعد لڑکی تھے اس نکاح کو تسلیم کر لیا تھا یا اپنے اس حق سے وہ دستبردار ہوگئی تھی ظاہر ہے کہ ان امور کا فیصلہ عدالت کر سکتی ہے کیونکہ عدالت ایک غیر جانبدارا دارہ ہے اور اس امر کی ازروئے قانون مجاز ہے کہ وہ حالات پیش آمدہ کا جائزہ لینے کے بعد اپنے فیصلہ سے کوئی ضررہ کسی دوسرے شخص کے ذمہ لازم کر دے" سے دفعہ نمبر ۴۱ خیار بلوغ کے حق کا استعمال بلوغت کے بعد معقول مدت کے اند ر جلد ہونا لازمی ہے۔تشریح : « بعض فقہاء نے خیار بلوغ کے استعمال کی مدت میں بڑی سختی سے کام لیا ہے اُن کے نزدیک اگر کوئی نابالغ لڑکی اپنے ولی کے کرائے ہوئے نکاح کو نا پسند کرتی ہے تو اسے چاہیئے کہ بالغ ہونے کے فوراً بعد خیار بلوغ کا حق استعمال کرے یا اگر نکاح کا علم نہیں تھا تو بالغ ہونے اور نکاح کا علم ہونے کے فوراً بعد اِس حق کو استعمال کرسے " سے فقہ احمدیہ خیار بلوغ کے حق کو استعمال کرنے کی مدت کو اہمیت نہیں دیتی۔چونکہ اصولی طور پر بالغ له المبسوط كتاب النكاح باب نكاح الصغير والصغيرة له المبسوط م ۲۱۵