فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 93
۹۳ کے پاس درخواست دے کر اس نکاح کو فسخ کرائے۔عام طور پر باقی فقہائے اسلام ایک بات کے قائل ہیں کہ ایسا نکاح اگر باپ نے پڑھوایا ہو تو نکاح فسخ نہیں ہو سکتا لیکن ہماری جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر صورت میں نکاح فسخ ہو سکتا ہے خواہ باپ نے کرایا گئی ہو یا کسی اور نے کیونکہ جب لڑکی کی رائے بلوغت میں باپ کی رائے پر مقدم سمجھی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ باپ کے پڑھوائے ہوئے نکاح کے بعد جب لڑکی بالغ ہو تو اس حق رضامندی کو اسے واپس نہ دیا جائے" سے ه خیار بلوغ او قاضی کا فیصلہ خیار بلوغ کے سلسلہ میں یہ سوال بڑا اہم ہے کہ نابالغ کے بالغ ہونے کے بعد خیار بلوغ کا حق استعمال کرنے کے ساتھ ہی نکاح فسخ ہو جاتا ہے یا عدالت کے باضابطہ فیصلہ کے ساتھ فسخ ہوتا ہے۔جمہور فقہاء کے نزدیک خیار بلوغ کا حق استعمال کر لینے سے نکاح خود بخو د فسخ نہیں ہوتا بلکہ اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک کہ عدالت اس کے فسخ کا حکم جاری نہ کر دے۔امام سرخسی اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- " فقہاء نے خیار بلوغ میں فسخ نکاح کے لئے عدالت کے حکم کی جو شرط لگائی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکی کا بلوغ کے بعد نکاح کو رد کر دینا شوہر کے کئی نقصانات کا موجب بنتا ہے اور یہ امر قرین انصاف نہیں کہ ایک معاہدہ جو صحیح طور پر منعقد ہوا ہو اور اپنے اثرات و نتائج کے اعتبار سے نافذ بھی ہو محض ایک فریق کے رد کر دینے له الفضل ۲۲ اکتوبر ۶۱۹۲۹