فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 92
۹۲ ہوئے نکاح کو توڑ دیا تو کوئی وجہ نہیں کہ اس حق کو نکاح نا بالغی کی وجہ سے باطل کر دیا جائے یا اے خیار بلوغ کے حق کی بنیاد ہی یہ ہے کہ نکاح میں فریقین یعنی مرد و عورت دونوں کی رضا ضروری ہے اور نابالغ اپنی عدم بلوغت کی بناء پر رضا کا اہل نہیں ہے لہذا جب اسے اہمیت حاصل ہو جائے تو وہ حق جسے شریعت نے تسلیم کیا ہے اس کے استعمال کا اختیار اسے حاصل ہو جاتا ہے۔بعض فقہاء نے خیار بلوغ کا حق صرف اس صورت میں تسلیم کیا ہے جب نابالغ کا نکاح باپ دادا کے علاوہ کسی اور نے کروایا ہو مگر اس تخصیص کی کوئی بنیا دیا معقول وجہ نہیں اگر نا بالغ کے نکاح کو رد کرنے کا اختیار بعد حصول بلوغت اس وجہ سے ہے کہ نابالغی کی حالت میں وہ رضا کا اہل نہیں تھا تو کوئی وجہ نہیں کہ وہی صورت باپ دادا کے کئے ہوئے نکاح میں خیار بلوغ کا باعث نہ بنے چنانچہ امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک خواہ باپ ہو یا دادا جب انہوں نے نکاح نامناسب مہر پر کیا ہو یا غیر کفو میں کر دیا ہو تو لڑ کی بالغ ہونے پر شیبار بلوغ کا حق استعمال کر سکتی ہے " کے کرسکتی رفقہ احمد یہ خیار بلوغ کے حق کو زیادہ وسیع طور پر تسلیم کرتی ہے نا بالغہ کا نکاح خواہ کسی نے کروایا ہو بالغ ہونے کے بعد وہ اسے رو کر سکتی ہے۔اس بارہ میں حضرت خلیفہ ایسیح الثانی کا ارشاد ہے :۔" لڑکیوں کی شادی اس عمر میں جائز ہونی چاہئیے جبکہ وہ اپنے نفع اور نقصان کو سمجھ سکیں اور اسلامی حکم یہی ہے کہ شادی عورت کی رضا مندی کے ساتھ ہونی چاہیے اور جب تک عورت اس عمر کو نہ پہنچ جائے کہ وہ اپنے نفع و نقصان کو سمجھ سکے اس وقت تک اس کی رضامندی بالکل دھوکہ ہے لیکن ہمارے مذہب نے اشد ضرورت کے وقت اس بات کی اجازت دی ہے کہ چھوٹی عمر میں بھی لڑکی کی شادی کی جاسکتی ہے لیکن اس صورت میں لڑکی کو اختیار ہوگا کہ وہ بڑی ہو کہ اگر اس شادی کو پسند نہیں کرتی تو مجسٹریٹ لے حضور کے قضائی فیصلے رجسٹر نمبر ۲ ما دار القضاء ربوہ ۲۱۵ له المبسوط مي