فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 91
۹۱ میں نہیں ملتی کہ کسی نابالغ لڑکی کا نکاح اس کی بلوغت کے بعد حق استرداد استعمال کرنے پر توڑ دیا گیا ہو البتہ بالغ لڑکی کے نکاح کا ایک واقعہ احادیث میں مذکور ہے کہ اس کے والد نے اس کا نکاح کر دیا تھا مگر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں اس نکاح کو پسند نہیں کرتی تو آپؐ نے اسے اختیار دیا کہ اگر وہ اسے پسند نہیں کرتی تو وہ اس نکاح کو نامنظور کر دے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- اِنَّ جَارِيَةً بِكْرًا اَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّ آبَاهَا زَوْجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ نَخَيَرهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - له یعنی ایک کنواری لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کی یا رسول اللہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کر دیا ہے اور وہ اسے ناپسند ہے اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا کہ وہ چاہے تو اس نکاح کو نامنظور کر دے۔اس واقعہ پر یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے معاملہ میں لڑکی کی رضا کو بھی ضروری سمجھا ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ ایک نابالغ لڑکی کے نکاح کو جبکہ وہ بالغ ہونے کے بعد اسے رہوکرتی ہے جبراً قائم رکھا جائے چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپنے ایک قضائی فیصلہ میں یہ حکم صادر فرمایا :- "میرے نزدیک لڑکی کو شریعت نے رضا کا حق دیا ہے اور جب وہ بالغ ہو جائے اس وقت اس کا حق اس کو مل جائے گا۔کوئی نکاح کرے۔لڑکی بالغ ہو کر اس حق کو جو اسے خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت دیا ہے طلب کر سکتی ہے اور کوئی انسانی فقہ اس حق کو اس سے چھین نہیں سکتی۔گورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کی روایات ثابت نہیں کہ نابالغ لڑکی کا نکاح ماں باپ نے کر دیا اور آپؐ نے لڑکی کی درخواست پر اسے توڑ دیا ہو، لیکن یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بالغ لوڈ کی کا نکاح اسکے باپ نے بلا اس کی اجازت کے کر دیا اور آپؐ نے اسے توڑ دیا۔پس جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی کی رضا کو ایسا ضروری سمجھا کہ اس کی فریاد پر باپ کے کئے ۲۸۵ ابو داؤد كتاب النکاح باب البكريزوجها ابوها ما