فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 90 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 90

۹۰ کر دیتا ہے تو اس کے بعد خاوند کے رجوع کا اختیار ساقط ہو جاتا ہے۔صاحب ہدایہ نے اس کی حکمت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے :- وكَانَ اللقُ بَائِنَا لأَنَّهُ مُعَاوِضَةَ الْمَالِ بِالنَّفْسِ وَقَدْ مَلِكَ الزَّوْجُ اَحَدَ الْبَدَ لَيْنِ فَتَمْلِكُ هِيَ الأَخِرَ وَهُوَ النَّفْسُ تَحْقِيقًا لِلْمُسَاوَاة له یعنی بدل خلع کی ادائیگی کی شرط پر یہ علیحدگی طلاق بائن کے حکم میں ہوگی کیونکہ اس میں نفس کے بدلہ میں مالی بطور معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔پس جب خاوند دو چیزوں میں سے ایک کا مالک ہو گیا یعنی مال کا، تو عورت دوسری چیز کی مالک ہو گئی یعنی اپنے نفس کی اور اس طرح ان دونوں کے درمیان مساوات کا اصول کار فرما ہوا۔وقعہ نمبر ۰ ۴۰ ه خیار ملبوغ نابالغ لڑکی جس کے باپ یا ولی مجاز نے اس کا نکاح کر دیا ہو بالغ ہونے پر اس نکاح کو رد کر دینے کا اختیار رکھتی ہے۔اس اختیار کا نفاذ قاضی شے ذریعہ ہو گا۔تشریح : - خیار بلوغ کا مسئلہ کسی نقص صریح سے ثابت نہیں ہے بلکہ اس مسئلے کی بنیا دقیاس پر نفیق ہے جو فقہ احمدیہ کا ایک مسلمہ ماخذ ہے۔جہاں تک قرآن وحدیث کا تعلق ہے کوئی واضح نص اِس بارہ له هدايه باب الخلع طي