فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 89
۸۹ وَضَيَّقَ عَلَيْهَا وَعُلِمَ اَنَّهُ ظَالِمُ لَهَا مَضَى الطَّلَاقُ وَرُةَ عَلَيْهَا مَالُهَا - قالَ مَالِكُ فَهَذَا الَّذِي كُنْتُ اَسْمَعُ وَالَّذِي عَلَيْهِ أَمْرُ النَّاسِ عِندَنَا الله یعنی ضلع لینے والی عورت کے متعلق اگر معلوم ہو کہ اس کے خاوند نے اسے دُکھ دیا ہے اور اسے خلع لینے پر مجبور کیا ہے اور یہ بات ثابت ہو جائے کہ خاوند اس پر ظلم کرتا رہا ہے تو قاضی کا فیصلہ ضلع نافذ ہوگا اور اس کا مال جو وہ خاوند کو ادا کر چکی ہے وہ بھی اسے واپس دلایا جائے گا۔امام مالک کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے اساتذہ سے یہی سنتا آیا ہوں اور اسی کے مطابق علماء مدینہ کا عمل درآمد ہے۔اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کی طرف سے ظلم کی صورت میں نہ صرف یہ کہ مرد بدل ضلع نہیں لے سکتا بلکہ اگر وہ کچھ دے چکا ہے تو اس کی واپسی کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتا۔بہر حال قاضی کیلئے خلع کا فیصلہ کرتے وقت ظلم و تعدی کے اس پہلو کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ه دفعہ نمبر ۳۹ خلع طلاق بائن کے حکم میں ہے یعنی فیصلہ ضلع کے بعد خاوند رجوع تو نہیں کر سکتا مگر فریقین باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔تشریح:- جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے ضلع ان معنوں میں فسخ نکاح ہے کہ ضلع میں خاوند کی رضامندی ضروری نہیں ہوتی۔بیوی کی طرف سے اظہار نفرت اور علیحدگی کے اصرار کی بناء اور بدل خلع کی ادائیگی کی شرط پر قاضی دونوں کے درمیان علیحدگی کا فیصلہ صادر کرتا ہے۔پس جب قاضی ضلع کا فیصلہ صادر نے موطا امام مالك كتاب الطلاق ما جاء في الخلع