فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 88 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 88

A A یعنی احادیث ضلع پر غور کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ جو از خلع کے لئے صرف یہ وجعہ کافی ہے کہ میاں بیوی میں افتراق اور نا چاتی ہے اور وہ اب مل کر نہیں رہ سکتے۔قضاء کی طرف سے بعض اوقات خلع کی درخواست کے تسلیم کرنے میں جو بظا ہر ترقد کیا جاتا ہے اس کا مقصد در حقیقت درخواست ضلع کو رو کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس سے صرف یہ کوشش مقصود ہوتی ہے که کیسی طرح یہ رشتہ قائم رہے اور عورت خاوند کے ساتھ رہنے پر رضامند ہو جائے۔جلد بازی ، کسی کے اکسانے یا وقتی جذبات اس کی چند کا موجب نہ ہوں گویا صرف مصالحت کی امکانی حد تک کوشش کرنا مقصود ہے ورنہ مسئلہ کی شرعی حیثیت یہی ہے کہ عورت اگر کسی طرح بھی اپنے مطالبہ سے دستکش نہ ہو تو پھر ضلع منظور کئے بغیر چارہ نہیں۔دفعہ نمبر ۳۸ اگر خاوند کے ظلم و تعدی کی وجہ سے عورت خلع لینے پرمجبور ہوگئی ہو تو قاضی خلع کی صورت میں اسے اس کا حق مہر بھی دلوا سکتا ہے۔تشریح :- جس طرح قاضی کو یہ اختیار ہے کہ وہ دیکھے کہ عورت کسی کے اکسانے کی وجہ سے ضلع کی درخواست تو نہیں کر رہی یا عورت ظلم کی مرتکب تو نہیں ہو رہی اور اس کا رویہ جارحانہ تو نہیں ہے اسی طرح قاضی کے لئے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کہیں خاوند عورت کو ضلع لینے پر اس غرض سے تو مجبور نہیں کر رہا کہ وہ مہر کی ذمہ داری سے بچ جائے گویا عورت کی بجائے خاوند کا رویہ ظالمانہ اور جارحانہ ہے تو اس صورت میں قاضی کو یہ بھی اختیار ہوگا کہ وہ عورت کے مطالبہ خلع کو منظور کرلے اور اس کے ساتھ خاوند سے اسے اس کا حق مہر بھی دلوائے۔چنانچہ امام مالک اس صورت حال کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- الْمُفْتَدِيَةُ الَّتِي تَقدِى مِنْ زَوْجِهَا إِنَّهُ إِذَا عَلِمَ أَن زَوْجَهَا أَضَرَّ بِهَا