فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 84 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 84

ادو دفعہ نمبر ۳۶ اگر علیحدگی کا مطالبہ عورت کی طرف سے ہوا اور وہ نکاح سے آزاد ہونے پر مصر ہوا اور مرد طلاق دینے سے انکار کرے تو عورت اپنے حق مہر یا دیگر مالی منفعت کے عوض قاضی کے ذریعہ خلع حاصل کر سکتی ہے۔تشریح : خلع کے بارہ میں قرآن مجید میں ارشاد ہے :- وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا أَتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَا فَا الايقِيْمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ الَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بها یعنی تمہیں اگر اندیشہ ہو کہ میاں بیوی کے کشیدہ تعلقات اب اس مرحلہ پر پہنچے گئے ہیں کہ ان میں نباہ نہیں ہو سکے گا اور وہ دونوں حدود اللہ کو قائم نہیں رکھ سکیں گے اور عورت علیحدگی پر مصر اور فدیہ یعنی بدل ضلع دینے پر آمادہ ہو تو بیوی کے بدل ضلع دینے اور میاں کے لینے میں کوئی گناہ نہیں۔تم انہیں اس طرح علیحدہ ہونے کی اجازت دے دو۔اِس فرمان کی مزید تشریح مختلف احادیث اور خلفائے راشدین کے عمل سے ہوتی ہے چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جمیلہ بنت سلول " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ مجھے اپنے خاوند ثابت بن قیس کی دینداری اور خوش خلقی پر کوئی اعتراض نہیں لیکن میری طبیعت له سورة البقره آیت ۲۳۰