فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 83 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 83

۸۳ مغلظہ " کہا جاتا ہے اس کے بعد یہ دونوں مرد اور عورت باہمی رضامندی سے بھی آپس میں نکاح نہیں کرسکتے سوائے اس کے کہ " حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَہ کی قرآنی شرط پوری ہو یعنی عورت اپنی مرضی سے کسی دوسرے شخص سے شادی کرے اور پھر خاوند کے فوت ہو جانے یا کیسی اور قدرتی وجہ سے وہ عورت اس نکاح سے آزاد ہو جائے اور پھر وہ پہلے خاوند سے نکاح کرنے پر راضی ہو تو اس طرح یہ دونوں پھر سے میاں بیوی بن سکیں گے۔O۔ے قدرتی وجہ کی شرط اس لئے بیان ہوئی ہے کہ حلالہ کے طریق کی خرابی اور اس کے بطلان کو واضح کیا جائے " حلالہ کا رواج بعض مسلمان فرقوں میں ہے اور اس کی صورت یہ بیان کی جاتی ہے کہ کسی شخص نے غصہ میں آکر یا نا سمجھی سے جلد بازی میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دے دیں اس کے بعد دونوں پچھتائے اور آپس میں پھر سے نکاح کرنے کا ارادہ کیا لیکن چونکہ ان فرقوں کے نزدیک طلاق بتہ واقع ہو چکی ہے اور حتی تنكِحَ زَوْجًا غیرہ کی شرط پوری کئے بغیر وہ آپس میں دوبارہ نکاح نہیں کر سکتے اس لئے کسی مرد کو تیار کیا جاتا ہے کہ وہ اس عورت سے نکاح کرے اور پھر مباشرت کے بعد اسے طلاق دے دے تاکہ وہ عورت اپنے پہلے خاوند سے نکاح کر سکے۔اس مصنوعی اور بے شرمی کے طریق کی اسلام نے ہرگز اجازت نہیں دی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے لعن الله المُحلل والمحلل له - ( ابوداؤد كتاب النكاح باب في التحليل م )