فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 74
طلاق اگر ناگزیر ہی ہو جائے تو نا چاقی کی وجوہات کو منظر عام پر لائے بغیر ہی طلاق دی جاوے تا کہ عورت کے مزعومہ نقائص یا کمزوریوں کا چرچہ نہ ہو۔دفعہ نمبر ۳۳ صحت طلاق اور اس کے موثر ہونے کے لئے مندرجہ ذیل تین شرائط ہیں د طلاق ہوش و حواس کی حالت میں پوری سوچ بچار کے بعد اپنی مرضی سے دی جائے۔جلد بازی، غصہ اور جبر کے تحت دی گئی طلاق موثر نہ ہو گی ہے ب - طلاق ایسے طہر میں دی جائے جس میں خاوند نے اپنی بیوی سے مباشرت نہ کی ہو حیض کی حالت میں دی گئی طلاق موثر نہ ہو گی۔ج - زبانی یا تحریری طلاق کی اطلاع بیوی کو مل جائے قضا طلاق کا عمل اس وقت سے شروع ہوگا جب بیوی کو اس کی اطلاع ملی ہو اور اسی وقت سے عورت کی عدت شروع ہوگئی ہے ے بعض فقہاء نے غصہ، جلد بازی اور جبر کی طلاق کو مونثر مانا ہے۔اسی طرح یہ بھی ضروری قرار نہیں دیا کہ طلاق کی اطلاع بیوی کو دی جائے لیکن فقہ احمدیہ فقہاء کی اس رائے کو درست تسلیم نہیں کرتی تفصیل کے لئے دیکھیں بداية المجتھد میت - كتاب الفقه على المذاهب الاربعه ص۔