فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 50
متعلق مشورہ کرے تو میں یہ مشورہ دیا کرتا ہوں کہ اپنی چھ ماہ کی آمد سے ایک سال تک کی آمد بطور مہر مقرر کر دو اور یہ مشورہ میرا اس امر پر مبنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود عليا الصلوة والسلام سے الوصیت کے قوانین میں دسویں حصہ کی شرط رکھوائی ہے۔گویا اسے بڑی قربانی قرار دیا ہے۔اس بناء پر میرا خیال ہے کہ اپنی آمدنی کا دسواں حصہ باقی اخراجات کو پورا کرتے ہوئے مخصوص کر دینا معمولی قربانی نہیں بلکہ سی ٹی قربانی ہے کہ جس کے بدلے میں ایسے شخص کو جنت کا وعدہ دیا گیا ہے اس حساب سے ایک سال کی آمد جو گویا متواتر دس سال کی آمد کا دسواں حصہ ہوتا ہے بیوی کے مہر میں مقرر کر دینا مہر کی اغراض کو پورا کرنے کیلئے بہت کافی ہے بلکہ میرے نزدیک انتہائی حد ہے " لے پس جماعت احمدیہ کا مسلک یہ ہے کہ حق مہر نہ اتنا کم ہو کہ وہ عورت کے وقار کے منافی محسوس ہوا اور شریعیت کے ایک اہم حکم سے مذاق بن جائے اور نہ اتنا زیادہ کہ اس کی ادائیگی تکلیف مالا يطاق ہو جائے۔اس اصول کی بناء پر خاوند کی جو بھی مالی حیثیت ہو اس کے مطابق کچھ ماہ سے بارہ ماہ تک کی آمدنی کے برابر حق مہر کو معقول اور مناسب خیال کیا گیا ہے۔دفعہ نمبر ۱۴ نکاح نکاح اپنے انعقاد اور اثرات کے اعتبار سے صحیح ہوتا ہے یا فاسد یا باطل۔تشریح اگر کسی نکاح میں صحت نکاح کی جملہ شرائط پائی جائیں تو نکا ہی ہو گا اور اگر صحت نکات کی له الفضل ۱۲ دسمبر ۶۱۹۴۰