فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 49 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 49

۴۹ ہو سکتی ہے۔بر صغیر میں غالباً اسی بناء پر کم سے کم مہر کی مقدار ساڑھے نہیں (۳۲) روپے قرار دی گئی لیکن فی زمانہ ساڑھے نہیں روپے حق مہر مقرر کرنا ائمہ سلف کے قلیل ترین معیار اور مختلف زمانوں میں قدر زر کے اختلاف کے لحاظ سے درست معلوم نہیں ہوتا۔کیونکہ یہ حق مہر کی اہمیت اور حکمت کے منافی ہے۔المد سلف نے زیادہ سے زیادہ حق مہر کی کوئی حد مقرر نہیں کی کیونکہ یہ اُس زمانے کا مسئلہ نہ تھا لیکن فی زمانہ یہ رجحان پیدا ہو گیا ہے کہ نمائش یا دباؤ کے پیش نظر بھاری رقوم حق مہر کے طور پر مقرر کی جائیں اگر چہ نیت اس کی ادائیگی کی نہیں ہوتی حالانکہ شریعیت کا منشاء یہ ہے کہ مہر ادائیگی کی نیت سے ہی مقرر کیا جائے اور پھر اسے ادا بھی کیا جائے۔اس لئے زیادہ حق مہر باندھنے کے غیر صحتمند رجحان کی روک تھام فی زمانہ لازمی ہے۔چنانچہ اس زمانہ کے حکم و عدل حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اس بارہ میں فرماتے ہیں :- رو ہمارے ملک میں یہ خرابی ہے کہ نیت اور ہوتی ہے اور محض نمود کیلئے لاکھ لاکھ روپے کا مہر ہوتا ہے۔صرف ڈراوے کے لئے دیکھا جایا کرتا ہے کہ مرد قابو میں رہے۔اور اس سے پھر دوسرے نتائج خراب نکل سکتے ہیں۔نہ عورت والوں کی نیت لینے کی ہوتی ہے اور نہ خاوند کے دینے کی۔میرا مذہب یہ ہے کہ جب ایسی صورت میں تنازعہ آپڑے تو جب تک اس کی نیت ثابت نہ ہو کہ ہاں رضا و رغبت سے وہ اسی قدر مہر پر آمادہ تھا جس قدر کہ مقرر شدہ ہے تب تک مقرر شدہ نہ دلایا جاوے اور اس کی حیثیت اور رواج وغیرہ کو مد نظر رکھ کر پھر فیصلہ کیا جاوے کیونکہ بدنیتی کی اتباع نہ شریعت کرتی ہے اور نہ قانون کے بعد ازاں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اس ارشاد کی روستا ن میں مہر کی انتہائی حد مقرر کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی چنا نچہ سید نا حضرت مصلح موعود ( اللہ آپ سے راضی ہو ) نے اِس سلسلہ میں فرمایا : یکس نے مہر کی تعیین چھ ماہ سے ایک سال تک کی آمد کی ہے۔یعنی مجھ سے کوئی مہر کے لے درہم کی قیمت اس زمانہ میں اُس کی قوت خرید کو مد نظر رکھ کہ مقرر ہونی چاہئیے کیونکہ اس وقت ایک درہم کی ایک بکری یا دو بکریاں ملتی تھیں۔بدر جلد نمبر ۱۶ - صفحه ۱۲۳ - ۸ مئی ۶۱۹۰۳