فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 44 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 44

۴۴ وأتُوا النِّسَاءَ صَدُقَتِهِنَّ نِحْلَةً له یعنی عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔مهر بیوی کا حق ہے وہی اس کی مالک ہے وہ جس طرح چاہیے اسے اپنے مصرف میں لا سکتی ہے خاوند کی وفات پر اگر مہر واجب الادا ہو تو دیگر قرضوں کی طرح حق مہر کی ادائیگی بھی خاوند کے ترکہ سے لازمی ہے۔دفعہ نمبر را مهریتی وہ مہر ہے جو فریقین کی رضا مندی سے بوقت نکاح کے پایا جائے اور اعلان نکاح میں اس کا ذکر آجائے۔تشریح جو حق مہر وقت نکاح مقر کیا جائے اور اعلان نکاح میں اس کا ذکر آئے موسیٹی کہلاتا ہے۔ادائیگی کے لحاظ سے مہر سمتی کی رواجا دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔۔مهم معجل ب : مهر موقبل ا : میر مجمل مقررہ مہر کا وہ حصہ ہے جو بوقت نکاح فوری طور پر ادا کر دیا جائے یا بیوی کے مطالبہ پر عند الطلب ادا کر نا تسلیم کیا جائے یا معاہدہ نکاح میں مہر کی ادائیگی کے وقت کا کوئی ذکر نہ ہو۔ایسے مہر کی عدم ادائیگی کی صورت میں بیوی خاوند کو اپنے نفس پر قدرت دینے سے انکار کرسکتی ہے اور لے سورة النساء آیت ۵