فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 16 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 16

14 تعریف نکاح دفعہ نمبر ا نکاح مرد اور عورت کے درمیان شارع کی عائد کردہ شرائط کے مطابق ایک شرعی معاہدہ ہے جو جنسی جبلت کو حدود اللہ کا پابند کر کے فریقین کے درمیان جنسی تعلق کو جائز اور اولاد کے نسب کو صحیح ٹھراتا ہے۔تشریح شریعت کی اصطلاح میں نکاح ایک معاہدہ ہے جس کا مقصد جائز اولاد پیدا کرنا ہےلیے چونکہ اسلام دین فطرت ہے اس لئے اس نے طبعی حوائج اور جبلی ضروریات کو گلینہ نظر انداز کرنے یا دبانے کی اجازت نہیں دی اور تجرد اور جنسی تعلقات سے اجتناب کی زندگی کو سخت نا پسند فرمایا ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے اِنَّ الرَّهْبَانِيَّةَ لَمْ تُكْتَبُ عَلَيْنَا یعنی رہبانیت اور ترک دنیا کا ہمیں حکم نہیں دیا گیا۔ایک اور مشہور عوام حدیث ہے :- لے فقہاء نے نکاح کی اصطلاحی تعریف یہ کی ہے :- النكَاحُ فِي الشَّرْعِ عَقْدُ مَدْنِيُّ لَفْظِيُّ اَوْخَطِيُّ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَا بالِغَيْنِ رَاشِدَيْنِ يَحْفَطَانِ بِهِ عَلَيْهِمَا عِفَا فَهُمَا وَصَلَا حَهُمَا ثُمَّ وَمَلَاحَهُمَا يَنْشَأْنِ مِنْهُ أَسْرَةً - الاسرة فى الشرع الاسلامي مك مرتبه عمر فروخ بیروت لبنان) یعنی نکاح ایک تمدنی معاہدہ ہے جو عاقل بالغ مرد اور عاقلہ بالغہ عورت آپس میں زبانی یا تحریری طور پر کرتے ہیں اور اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کے ذریعہ اپنی عفت کی حفاظت کریں اور بھلائی کا سامان کر کے ایک گھر آباد کریں تا کہ اس سے گنبہ کی بنیا د پڑے۔کے مسند احمد بن حنبل جلد ۶ ۲۲۵