فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 14 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 14

۱۴ مسائل قرآن میں ید طولیٰ تھا۔خدا تعالیٰ حضرت مجدد الف ثانی پر رحمت کرے انہوں نے مکتوب م میں فرمایا ہے کہ امام اعظم صاحب کی آنے والے سینج کے ساتھ استخراج مسائل قرآن میں ایک روحانی مناسبت ہے " ہے حضور علیہ السلام ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں :۔اصل حقیقت یہ ہے کہ امام صاحب موصوف اپنی قوت اجتہادی اور اپنے علم اور درایت اور فہم و فراست میں ائمہ ثلاثہ باقیہ سے افضل و اعلیٰ تھے اور ان کی خدا داد قوت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت عدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے اور ان کی قوت مدرکہ کو قرآن شریف کے سمجھنے میں ایک خاص دستگاہ تھی اور ان کی فطرت کو کلام الہی سے ایک خاص مناسبت تھی اور عرفان کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ چکے تھے اور اسی وجہ سے اجتہاد و استنباط میں ان کے لئے وہ درجہ علیا مسلم تھا جس بیت پہنچنے سے دوسرے سب لوگ قاصر تھے “ کے " له الف :- الحق مباحثہ لدھیانہ سین تصنیف ۶۱۸۹۱ ۱۵۰ ، روحانی خزائن جلد ۴ ص ب : نیز علامہ محد نجم الغنی خان صاحب رام پوری اپنی کتاب " مذاہب اسلام ص پر لکھتے ہیں در مختار میں امام ابو حنیفہ کے جہاں اور اوصاف لکھے ہیں ان میں یہ بھی لکھا ہے يحكم بمذهبه عیسی علیہ السلام یعنی امام ابو حنیفہ " کے مذہب کے موافق عیسی علیہ السلام حکم کریں گے او محشی چلپی نے اس کا مطلب یوں بیان کیا ہے کہ حضرت شیخ اجتہاد کریں گے اور ان کا اجتہاد امام ابو حنیفہ کے اجتہاد کے موافق پڑے گا۔کے ازالہ اوہام سین تصنیف ۱۸۹۱ ۶ صفحه ۵۳۰، ۵۳۱، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۸۵