فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 13 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 13

۱۳ کے بہت سے فرقے جو بعد میں پیدا ہو گئے ان میں سے سینچے فرقہ کو احادیث صحیحہ سے بہت فائدہ پہنچا ہے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں :- دو ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن اور سنت نہ ہو تو خواہ کیسے ہی ادنی درجہ کی حدیث ہو اس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اس کو ترجیح دیں “ کے ان تین رہنما محکم اصولوں کے بعد جن پر تمام شریعت حقہ کی بنیاد ہے اگر کوئی مسئلہ حل طلب رہ جائے یا اس کے حل میں مزید روشنی اور راہنمائی کی ضرورت ہو یا کوئی نیا مسئلہ پیدا ہو جائے تو ان مسائل کے حل کے لئے جماعت کے مجتہدین اور راسخین فی العلم کو حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی حسب ذیل ہدایت ہے :- اگر حدیث میں کوئی مسئلہ نہ ملے اور نہ سنت میں اور نہ قرآن میں مل سکے تو اس صورت میں فقہ حنفی پر عمل کرلیں کیونکہ اس فرقہ کی کثرت خدا کے ارادہ پر دلالت کرتی ہے اور اگر بعض موجودہ تغیرات کی وجہ سے فقہ حنفی کوئی صحیح فتوئی نہ دے سکے تو اس صورت میں علماء اس سلسلہ کے اپنے خدا داد اجتہاد سے کام لیں لیکن ہوشیار رہیں کہ مولوی عبداللہ چکڑالوی کی طرح بے وجہ احادیث سے انکار نہ کریں۔ہاں جہاں قرآن او سنت سے کسی حدیث کو معارض پاویں تو اس حدیث کو چھوڑ دیں " سے حضور علیہ السلام حضرت امام ابو حنیفہ کے بارہ میں ایک جگہ فرماتے ہیں :- وہ ایک بحر اعظم تھا اور دوسرے سب اس کی شاخیں ہیں ہیں کا نام اہل الرائے رکھنا ایک بھاری خیانت ہے۔امام بزرگ ابو حنیفہ کو علاوہ کمالات العلم انکار نبویہ کے استخراج ریویو بر مباحثہ چکڑالوی و بٹالوی مثه سی تصنیف نومبر ۶۱۹۰۲، روحانی خزائن جلد ۱۹ ۲۰ تا صلا۲ " " رہ " " " سے