فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 12 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 12

مثلاً جب نماز کے لئے حکم ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے اس قول کو پنے فعل سے کھول کر دکھلا دیا اور عملی رنگ میں ظاہر کر دیا کہ فجر کی یہ رکعات ہیں اور مغرب کی یہ۔اور باقی نمازوں کے لئے یہ یہ رکعات ہیں۔ایسا ہی حج کر کے دکھلایا اور پھر اپنے ہاتھ سے ہزار ہا صحابہ کو اس فعل کا پابند کر کے تسلسلہ تامل بڑے زور سے قائم کر دیا۔پس عملی نمونہ جواب تک اُمت میں تعامل کے رنگ میں مشہود محسوس ہے۔اسی کا نام منت ہے۔لیکن حدیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے روبرو نہیں لکھوایا اور نہ اس کے جمع کرنے کے لئے کوئی اہتمام کیا۔پھر جب وہ دور صحابہ رضی اللہ عنہم کا گذر گیا تو بعض تابعین کی طبیعت کو خدا نے اس طرف پھیر دیا کہ حدیثوں کو بھی جمع کر لینا چاہیئے تب حدیثیں جمع ہوئیں۔اس میں شک نہیں کہ اکثر حدیثوں کے جمع کرنے والے بڑے متقی اور پر سہیز گار تھے انہوں نے جہاں تک ان کی طاقت میں تھا حدیثوں کی تنقید کی اور ایسی حدیثوں سے بچنا چاہا جو ان کی رائے میں موضوعات میں سے تھیں اور ہر ایک مشتبہ الحال راوی کی حدیث نہیں لی۔بہت محنت کی مگر تا ہم چونکہ وہ ساری کارروائی بعد از وقت تھی اس لئے وہ سب ظن کے مرتبہ پر رہی بایں ہمہ یہ سخت نا انصافی ہوگی کہ یہ کہا جائے کہ وہ سب حدیثیں لغو اور نکمتی اور بے فائدہ اور جھوٹی ہیں بلکہ ان حدیثوں کے لکھنے میں اس قدر احتیاط سے کام لیا گیا ہے اور اس قدر تحقیق اور تنقید کی گئی ہے جو اس کی نظیر دوسرے مذاہب میں نہیں پائی جاتی۔تاہم یہ غلطی ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ جب تک حدیثیں جمع نہیں ہوئی تھیں اس وقت تک لوگ نمازوں کی رکعات سے بے خبر تھے یا حج کرنے کے طریق سے نا آشنا تھے کیونکہ سلسلہ تعامل نے جو سنت کے ذریعہ سے ان میں پیدا ہو گیا تھا تمام حدود اور فرائین اسلام ان کو سکھلا دیئے تھے اس لئے یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ان حدیثوں کا دُنیا میں اگر وجود بھی نہ ہوتا جو مدت دراز کے بعد جمع کی گئیں تو اسلام کی اصل تعلیم کا کچھ بھی حرج نہ تھا کیونکہ قرآن اور سلسلہ تعامل نے ان ضرورتوں کو پورا کر دیا تھا تاہم حدیثوں نے اس نور کو زیادہ کیا گویا اسلام نور عَلی نُور ہو گیا اور حدیثیں قرآن اور سنت کے لئے گواہ کی طرح کھڑی ہوگئیں اور اسلام۔۔۔۔۔