فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 123
۱۲۳ باب چهارم ا - والد ذوی الفروض کے حصے اگر متوفی کی اولاد ہو تو والد کو ترکہ کا پا حصہ ملے گا۔ب - اگر متوفی کی لڑکی یا لڑکیاں موجود ہوں تو والد بطور ذوی الفروض یا حاصل کرے گا نیز دیگر ذوی الفروض کو ادا کرنے کے بعد بقیہ ترکہ وہ بطور عصبہ حاصل کرے گا۔ج - اگر متوفی کی اولاد نہ ہو تو والد عصبہ ہو گا یعنی تمام موجود ذوی الفروض کو ان کے حصے ادا کرنے کے بعد جو بچ رہے گا وہ والد حاصل کرے گا اور اگر کوئی ذوی الفروض نہ ہو تو سارا ترکہ والد -1 کو مل جائے گا۔والده اگر متولی کی اولاد ہو تو والدہ کو ترکہ کا یا حصہ ملے گا۔ب۔اگر متوفی کی اولاد نہ ہو لیکن میت کے بہن بھائی ایک سے زائد ہوں تو بھی والدہ کو ترکہ کا پا اگر حصہ ملے گا۔اگر متوفی کی اولاد نہ ہو صرف والد اور والدہ ہوں اور کوئی بہن بھائی بھی نہ ہوں یا صرف ایک بہن یا بھائی ہو تو والدہ کو ترکہ کا سا حصہ ملے گا۔- اگر متوفی کی اولا دیا بہن بھائیوں میں سے کوئی بھی موجود نہ ہولیکن خاوند یا بیوی ہوں تو ان کا معین حصہ ادا کرنے کے بعد والدہ کو باقی ترکہ کا سا حصہ ملے گا۔دارا اگر متوفی کا والد زندہ نہ ہو تو دادا کے حقوق میراث بعینہ وہی ہوں گے جو کہ والد کے ہیں