فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 122
۱۲۲ عصبہ بن جاتی ہے لیے مثالی بہن جو متوفی کی بیٹی کے ساتھ مل کر عصبہ بن جاتی ہے۔عصبات کی درجہ بندی عصبات کی درجہ بندی الاقرب فالاقرب" کے اصول کے تحت ہے یعنی جن رشتہ داروں کی قرابت متوفی سے زیادہ نزدیکی ہے وہ بوجہ عصبہ میراث میں مقدم ہوں گے اور نسبتا دور کے عصبات محجوب ہوں گے۔باعتبار قرب عصبات کی درجہ بندی حسب ذیل ہے :- بیٹا ، پوتا، پڑپوتا وغیرہ (یعنی متوفی کی نسل) ب باپ، دادا، پڑدادا (یعنی متوفی کی اصل) ج- متوفی کا بھائی، بھائی کا بیٹا ، بھائی کا پوتا (یعنی متوفی کے باپ کی نسل ) - چچا، چا کا بیٹا، چا کا پوتا ( یعنی متوفی کے دادا کی نسل) عصبہ کا حق میراث اُس کی قسم اور قرابت کے مطابق طے ہو گا مثلا مذکورہ بالا چار اقسام میں اگر قسم اول کے عصبات موجود ہوں تو باقی قسموں کے عصبات وارث نہیں ہوں گے۔وعلی ہذا القیاس۔اگر میراث سے حصہ پانے والے عصبات مرد اور عورت دونوں ہوں یعنی عصبہ نفسہ کے ساتھ عصبہ بالغیر بھی ہو تو پر تقسیم لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِ الان ، کے اصول کے مطابق مرد کو عورت سے دوگنا ملے گا۔ذوی الارحام ذوی الارحام سے مراد وہ وارث ہیں جن کا شمار نہ تو ذوی الفروض میں ہو اور نہ ہی عصبیات میں بلکہ ان کی عدم موجودگی میں یہ وارث قرار پاتے ہیں مثلاً نواسہ بھونی، خالہ، ماموں۔مثلاً ایک شخص فوت ہوتا ہے اس کے وارث ماں ، بیٹی اور بہن ہیں ماں کو ترکہ کا ہے ملے گا بیٹی کو تو کہ کا یہ ملے گا اور بہن عصبہ ہو گی جسے ترکہ کا بقیہ حصہ ملے گا۔لے سورة النساء : ١٣