فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 121 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 121

۱۲۱ باب سوم اصطلاحات ذوى الفروض ذوی الفروض سے مراد وہ وارث ہیں جن کے حصے قرآن کریم میں معین کر دیئے گئے ہیں۔مثلاً ماں، بیوی، خاوند وغیرہ۔عصبات (عصبہ کی جمع) عصبات سے مراد وہ وارث ہیں جن کا قرآن کریم نے کوئی حصہ معین نہیں کیا بلکہ ذوی الفروض کو ان کے حصے دینے کے بعد بقیہ تمام تر کہ ان کو مل جاتا ہے اور اگر کوئی ذو الفرض نہ ہو تو سارا ترکہ ان میں تقسیم ہوتا ہے مثلا بیٹا، پوتا ، باپ وغیرہ۔عصبات کی اقسام عصبہ کی تین قسمیں ہیں :- ا عصبہ بنفسہ : عصبہ نفسہ سے میت کا وہ رشتہ دار مراد ہے جس کا متوفی سے تعلق براہ راست ہو۔عورت کے رشتہ کی وساطت نہ ہو مثلاً بیٹا، پوتا ، باپ، دادا، بھائی بھتیجا۔اس کے بالمقابل نانا عصبہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ماں کے واسطہ سے رشتہ دار ہے اسی طرح نواسہ جس کا تعلق متوفی سے بیٹی کے واسطہ سے ہے۔Has يعصبه بالغیر :- عصبہ بالغیر سے مراد مستوفی کی وہ رشتہ دار عورت ہے جو مرد کے واسطے بنے۔مثلاً بیٹی جو کہ بیٹے کی وجہ سے عصبہ بنتی ہے۔پوتی جو کہ پوتے کی وجہ سے عصبہ بلتی ہے بہن حقیقی ہو یا علاقی جو بھائی کی وجہ سے عصیبہ بنتی ہے۔- عصبہ مع الغیر : متوفی کی وہ عورت رشتہ دار جو کسی دوسری عورت کے واسطے سے