فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 120 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 120

تمتد فی تعصب کا شکار ہو گئے ہوں وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔اسی طرح حدیث لا یرت المُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الكَافِرُ الْمُسْلِمَ لے کا مفہوم مذکورہ بالا آیات قرآنی کی روشنی میں متعین ہو گا عینی ایسے کافر جو حض مذہبی اختلاف کی بناء پر مسلمانوں سے جنگ کرتے ہیں اور ان کو ان کے گھروں سے نکالتے ہیں وہ اپنے مسلمان مورث کے وارث نہیں ہوں گے۔ایسی ہی بنیاد کے پیش نظر حضرت امیر معاویہ نے اپنے عہد حکومت میں یہ قانون نافذ کیا تھا کہ کوئی نومسلم اپنے غیرمسلم مورث کی وراثت سے محروم نہیں ہو گا یہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اختلاف دین کا مانع وقتی اور بعض مصالح کی بناء پر ہے۔میں حال اختلاف دارین کا ہے یعنی ایسے دو ممالک جو آپس میں برسر پیکار ہوں یا ان میں ایک دوسرے کے ملک میں ملکیت حاصل کرنے کا کوئی باہمی معاہدہ نہ ہو اُن ملکوں کے افراد آپس میں رجمی رشتہ رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔حادثہ میں اس طرح اکٹھے فوت ہونے والے افراد کہ ان کی موت کے وقت کا علم نہ ہوسکے انکے ایک دوسرے کے وارث نہ بن سکنے کی بنیاد در اصل اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ کیا معلوم کون پہلے فوت ہوا ہے اور کون بعد میں لیکن فقہ الحد یہ اس بارہ میں اس اصول کو زیادہ صحیح مانتی ہے کہ حادثات میں ایک ساتھ فوت ہونے والے رشتہ داروں کی وراثت کا مسئلہ اِس طور سے طے کیا جائے کہ ان میں سے بڑی عمر والا پہلے فوت شدہ متصور ہو۔مسلمان اور کا فر ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے۔(ابو داؤد کتاب الفرائض حت) ه نرث اهل الكتاب ولا يرثونا انيل الأوطار باب امتناع الارث باختلاف الدين ص)