فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 8 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 8

میں فقہ حنفی پر عمل کر لیں کیونکہ اس فرقہ کی کثرت خدا کے ارادہ پر دلالت کرتی ہے اور اگر بعض موجودہ تغیرات کی وجہ سے فقہ حنفی کوئی صحیح فتوی نہ دے سکے تو اس صورت میں علماء اس سلسلہ کے اپنے خدا داد اجتہاد سے کام لیں، لیکن ہوشیار رہیں کہ مولوی عبداللہ چکڑالوی کی طرح بے وجہ احادیث سے انکار نہ کریں ہاں جہاں قرآن اور سنت سے کسی حدیث کو معارض پاویں تو اس حدیث کو چھوڑ دیں “ در یولو بر مباحثه چکڑالوی و بٹالوی صل است تصنیف نومبر ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صلا(۲) خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ مندرجہ بالا تعلیم کی پابند رہی ہے اور رہے لیکن ابھی تک فقہ احمدیہ پورے طور پر مدقون شکل میں جماعت کے سامنے نہیں آئی اس لئے : مجلس شوری جو تمام جماعتہائے احمدیہ کی نمائندہ مجلس ہے حضرت امام جماعت ایدہ اللہ تعالے بنصرہ العزیز کی خدمت میں مودبانہ درخواست کرتی ہے کہ حضور ایک سب کمیٹی مقر فرمائیں جو فقہ احمدیہ کو مدون اور مرتب کرے اور یہ فقہ مسائل وراثت ہبہ انکاح، زکواۃ ، گارڈین شپ اور دیگر ضروری فقهی امور پرمشتمل ہو جسے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی منظوری کے بعد فقہ احمدیہ۔۔۔۔یا مختصراً فقر احمدیہ کے نام سے شائع کیا جائے تاکہ یہ فقہ جاعت احمدیہ کے ہر فردکے لئے قضائیہ معاملات اور ملکی عدالتوں میں پرسنل لاء کا کام دے۔مختلف نمائندگان نے اپنی آراء کا اظہار کرتے ہوئے اس قرار داد کا پر جوش خیر مقدم کیا اور جب اسے رائے شماری کے لئے پیش کیا گیا تو جملہ نمائندگان نے متفقہ طور پر اس کی تائید کی۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے بھی نمائندگان کے ہمراہ کھڑے ہو کر اس کے حق میں اپنی رائے کا اظہار فرمایا۔اس متفقہ سفارش کو حضور نے منظور فرمالیا۔منقول از روزنامه افضل ۲۹ تاریخ ۶۹۶) اس فیصلہ کے پیش نظر حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے جو کمیٹی تشکیل فرمائی تھی اس کا ذکر ایڈیشن اول کے پیش لفظ میں موجود ہے۔خاکسار مرزا عبد الحق ایڈووکیٹ صدر تدوین فقه کیشی