فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 80 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 80

صحابہ کے قریب کا زمانہ پایا خصوصا امام مالک تو مدینہ کے رہنے والے تھے اور اہل مدینہ کا دستور العمل جو صحابہ کے اتنے قریب کا دور تھا اُن کے سامنے تھا۔یہ سب جب عملاً رفع یدین کے اس رنگ میں قائل نہیں تو اس کا صاف مطلب ہے کہ اس بارہ میں ضرور کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے اور ترک رفع بدین کی روایات بے بنیاد نہیں ہیں۔مالکیوں کی فقہ کی مشہور کتاب مدونة الكبرى میں ہے :- قال مالك لا اعرن رفع اليدين في شيء من تكبير الصلوة لاني خفض ولا في رفع الا فى افتتاح الصلوة - ا وجز المسالک شرح موطا امام مالک ص۲۳) یعنی امام مالک کہتے تھے کہ تکبیر تحریمیہ کے علاوہ نماز کے کسی اور حصہ میں رفع یدین کے بارہ میں میرا کوئی مشاہدہ نہیں ہے گویا آپ کے زمانہ میں اہالیان مدینہ میں اس طرح رفع یدین کا دستور نہ تھا۔پس مذکورہ تصریحات کی روشنی میں یہ کہنا کیونکہ جائزہ ہو سکتا ہے کہ پہلی بار کے علاوہ دوسرے مواقع پہ رفع یدین نہ کرنے والے تارک السنت ہیں۔اس زمانہ کے حکم و عدل سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس نزاع کا یوں حل فرمایا کہ دونوں فریق نے اس بارہ میں شدت اختیار کی ہے اور جو لوگ یرفع یدین کے قائل نہیں ہیں ان کی روایات کو ضعیف اور بے بنیاد قرار دینا بھی قرین انصاف نہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :- " اس میں دیعنی رفع یدین میں چنداں حرج نہیں معلوم ہوتا خواہ کوئی کرے یا نہ کرے۔احادیث میں بھی اس کا ذکر دونوں طرح پر ہے۔معلوم ہوتا ہے رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے کسی وقت رفع یدین کیا بعد انساں ترک کر دیا " نے ایک اور موقع پر فرمایا : - ضروری نہیں اور جو کمر سے تو جائز ہے؟ سوال :۔نمازہ میں دو سجد سے اور ایک رکوخ کیوں کرتے ہیں ؟ جواب :۔اس استفسار کا اصولی جواب تو یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے ایسا ہی حکم دیا ہے اور فروعی احکام کی حکمتوں کے معلوم کرنے کے ہم مکلف نہیں ہیں۔اس کی بالکل ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک شخص کی قابلیت اس کی صلاحیت اور اس کی عظمت بدلائل قاطعہ ثابت ہو چکی ہو اور لوگوں نے اُسے اپنا امام تسلیم کر لیا ہو اب اگر یہ لوگ ایسے شخص کے کسی اقدام کی : تدر اور اکتوبر :