فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 48 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 48

۴۸ کتنے سجدے کر د یہ نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل اور قول سے بتایا در اصل جیسا کہ شروع میں بیان کیا گیا ہے نماز ایک ایسی عبادت ہے جسے مسلمان دن میں پانچ بار بجالاتے ہیں اور آغاز اسلام سے اتک اس عبادت کوغیر منقطع تو اتر حاصل رہا ہے حضور اکرم صلی اللہ علہ وسلم کو صحابہ کرام نے دکھا۔صحابہ کو نا امین نے دیکھا اسی طرح پر نسل چلتا چلا آیا پیس کس طرح ممکن ہے کہ مسلمانوں نے نماز کے اہم ترین حصوں کو ترک کر دیا ہواور یہ تبدیلی چپ چاپ ہوگئی ہو۔نہ تاریخوں میں اس کا ذکر ہو اورنہ ہی مسلمانوں کا چودہ سوسالہ عمل ہی اُسے ظاہر کرتا ہو۔غرض اس زمانے کے ان نئے شارمین کو دو راستوں میں سے ایک راستہ لازماً اختیار کرنا پڑیگا۔یا تو وہ اس بات سے انکار کریں کہ رسول للہ صل اللہ علیہ ہم کام ان کے لیے حجت ہے اور قرآن نے آپ کی یہ جو شان بیان کی ہے کہ لتبين للناس مانزل اليهم اسے وہ نہیں مانتے یا پھر یہ مائیں کہ اصل نماز تو وہی ہے جو آنحضرت نے پڑھی ہے لیکن یہ لوگ اپنی نئی نماز ایجاد کرینگے۔سوال:۔کیا عین دوپہر کے وقت نماز پڑھ سکتے ہیں۔اگر یہ نہیں ہو سکتا تو جمعہ کے دن تعطیہ سے پہلے لوگ کثرت سنتیں پڑھتے ہیں اس کے متعلق کیا فیصلہ ہے ؟ ستجواب : عین دوپہر کے وقت نماز پڑھنا درست نہیں۔باقی خطبہ سے پہلے سنتیں پڑھنا جائز ہے کیونکہ فروری نہیں کر خطبہ میں دوپہر کے وقت شروع ہو بلکہ بہتر یہ ہے کہ سورج ڈھلنے پر مناسب وقفہ کے بعد خطبہ شروع کیا جائے تاکہ دوست سنتیں وقت پر پڑھ سکیں۔سوال:- اگر اشراق کی نماز پڑھتے ہوئے زوال کا وقت آجائے تو کیا نماز فاسد ہو جائے گی ؟ جواب : اگر نفل نماز پڑھتے ہوئے زوال کا وقت ہو جائے تو نماز فاسد نہ ہوگی بلکہ اس کی تکمیل کرنی چاہیئے۔علاوہ ازیں زوال کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت میں وہ شدت نہیں جو غروب آفتاب با طلوع کے وقت میں ہے کیونکہ جمعہ کے دن نیز مسجد الحرام میں اس وقت میں نقل نماز پڑھنے کی اجازت ہے اور یہ احادیث سے ثابت ہے۔زوال سے مراد وہ وقت ہے جب سورج عین سمت الراس میں ہو اور زوال کے قریب ہو۔در اصل زوال کے لفظ کا استعمال قریبی حالت کے اعتبار سے ہے ورنہ جب دلوک شروع ہو جاتا ہے تو نماز کا وقت صحیح شروع ہو جاتا ہے اور مکروہ وقت ختم ہو چکا ہوتا ہے۔