فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 375
۳۷۵ ہاں اگر کسی مقامی مستحق کی مدد کرنا مقصود ہو یا کوئی جماعت یا فرد زکواۃ کی ساری رقم کو مقامی طور پر خرچ کہ نا چاہتا ہو تو پھر پہلے سے اس کی اجازت مرکز سے منگوا لینی چاہیئے۔غریب سید کو زکواۃ دینے کی اجازت کا دارو مدار خلیفہ وقت کی مرضی پر ہے۔سوال مدد کا ہے جو ضروری ہے کس مد سے ہو یہ بالکل الگ امر ہے دراصل آغاز اسلام میں بیت المال کی آمدن کی مختلف مدات تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ داروں کی مدد متد زکواۃ کی بجائے دوسری مدات سے کی جاتی تھی اور نہ کواۃ کی مدائن پر خرچ نہیں ہوتی تھی لیکن جب یہ انتظام باقی نہ رہا تو پھر یہ تمیز اٹھ گئی۔چنانچہ فقہ کے مشہور بزرگ حضرت امام ابو حنیفہ نے یہی فتوی دیا ہے کہ ؟ ۲ - قرآن کی تعلیم دینے والے استاد کو بطور تنخواہ ہ کواۃ کی مد سے رقم دی جاسکتی ہے۔اسی طرح غریب طالب علموں کو زکواۃ کی مد سے وظائف دیئے جا سکتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین نے کے بعد حالات چونکہ بدل گئے ہیں اس لئے بعض آئمہ نے حالات کی تبدیلی سے مجبور ہو کر اضطرار کے پیش نظر جوانہ کا فتویٰ دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بھی اضطرار کا پہلو اختیار فرمایا ہے۔مطلقا جوانہ کا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے تفسیر کبیر میں مسلمانوں کی اس غفلت پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے اور اسے قومی انحطاط کا ایک اہم سبب قرار دیا ہے یہ ہے :- شرح معانی الآثار طحاوی ہے۔شامی کا نیل الاوطار کتاب الزکواة : :- تفسير كبير سورة البقرة ما :