فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 374 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 374

۳۷۴ سب ضرورتیں زکواۃ کی مد سے بھی پوری کی جاسکتی ہے۔ابن السبيل ابن السبیل سے مراد مسافر ہے۔مسافروں کی فوری اور مستقل ضروریات زکوۃ کی مد سے پوری کی جاسکتی ہیں۔مثلاً سرائیں اور رہائش گاہیں بنانا۔راستہ کی حفاظت کیلئے چوکیاں قائم کرنا۔سڑکیں اور پل بنانا۔دختر معلومات کھولنا یا کھانا مفت مہیا کرنا۔غرض سیرو سیاحت اور تجارتی سفروں کے فروغ کے لئے ضروری اخراجات مذکورہ مد سے ادا کئے جا سکتے ہیں۔عام ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے زکواۃ کے یہ آٹھ مصرف بیان فرمائے ہیں۔یہ اصولی رہنمائی ہے۔ورنہ امام وقت کو یہ اختیار ہے کہ اگر حالات کا تقاضہ ہو کہ ساری کی ساری زکواۃ ان میں سے کسی ایک مصرف پر خرچ کی جائے تو ایسا کرنا جائزہ اور منشاء شریعیت کے عین مطابق ہے۔سید کے لئے زکواۃ 1 - سوال ہوا کہ غریب سید ہو تو کیا وہ زکواۃ لینے کا مستحق ہوتا ہے یا نہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔اصل میں منع ہے اگر اضطراری حالت ہو فاقہ پر فاقہ ہو تو ایسی مجبوری کی حالت میں جائتہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الا ما اضطرِرْتُمْ إِلَيْهِ " والانعام : ١٣٠) حدیث سے فتوی تو یہ ہے کہ نہ دینی چاہیئے۔اگر سید کو اور قسم کا رزق آتا ہو تو اُسے زکواۃ لینے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ہاں اگر اضطراری حالت ہو تو اور بات ہے۔" ر حال اصل یہ ہے کہ زکواۃ مرکز کی وساطت سے خرچ ہونی چاہیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رض اور حضرت عمریضہ کے عہد مبارک ہیں یہی طریق جاری تھا ه الحکم ۲۳ اگست تنشه۔فتاوی مسیح موعود ص ۱۳۲