فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 373 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 373

کے نظم ونسق کے کارکن اور شکمہ مال کے کا رند سے زکواۃ کی آمد میں سے گزارا لے سکتے ہیں۔مؤلفة القلوب حوصلہ افزائی اور سہارا دینے کے لئے کچھ خرچ کرنا خواہ اس کا مقصد کسی کو اسلام سے مانوس کرنا ہو یا ملک و ملت کے سیاسی مفاد اس کے مقتضی ہوں مثلاً کسی علاقہ میں کچھ لوگ مسلمان ہوئے ہیں جس کی وجہ سے مخالفوں نے ان کے کاروبار کو برباد کر دیا ہے۔یا اسلام کی طرف میلان رکھتے ہوں لیکن اپنی مشکلات سے ڈرتے ہوں ایسے لوگوں کی تالیف قلوب کے لئے زکواۃ کی مد سے خرچ کرنا بالکل روا اور بجا ہو گا۔ه - المرقاب رقبة کی جمع ہے۔اس تھے مجھے گردن کے ہیں۔اس کے معنے یہ ہیں کہ کسی کی گردن حوادث زمانہ کی وجہ سے دوسرے کے قبضہ میں آگئی ہو۔وہ اس کی مرضی کے بغیر ہل جبل نہ سکتا ہو جیسے دشمن کے ہاتھ میں قید ہو گیا ہو۔یا قرض میں اس کا رواں رواں ڈوب چکا ہو اور قرض خواہوں نے اس کا ناطقہ بند کر رکھا ہوا ایسے شخص کی زکواۃ کی آمدن سے گلو خلاصی کرائی جاسکتی ہے۔غار مین غارم کی جمع ہے۔یعنی وہ جس پر نا گہانی حادثہ کی وجہ سے چھٹی پڑ گئی ہو۔غلطی سے وہ کسی کا بھاری نقصان کر بیٹھا ہوا اور اس کی ذمہ داری اس پر آپڑی ہو یا اس کے کسی عوز نیرہ نے کوئی غلطی کی ہو اور اس کی چٹی اُس نے اپنے ذمہ لے لی ہو۔ایسے مصیبت زدہ کی مدد نہ کواۃ کی آمد سے کی جاسکتی ہے۔في سبيل الله اللہ کی راہ سے مراد ایسے تمام کام جو اسلام اور مسلمانوں کی بہبود۔ان کی تنظیم حفاظت اور استحکام اور دوسری شہری ضروریات کے لئے حکومت اور جماعت کو کرنے پڑتے ہیں یہ